دادہ میں سیلاب سے تباہی’3بہنیں پانی میں ڈوب گئیں

حیدرآباد /دادو(نامہ نگار) دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں اضا فے کا سلسلہ جاری ہے، اوباڑو کے قریب ور والو اسٹاپ کے مقام پر ڈہر کینال سے گزرنے والی پل اچانگ گر گیا، دادو میں 3 بہنیں ڈوب کر جاں بحق ہو گئیں’ تفصیلات کے مطابق دریائے سندھ میں کوٹری بیراج پر پانی کی آمد میں اضا فے کا سلسلہ جاری ہے، 24 گھنٹے میں 12 ہزار کیوسک کے اضافہ سے پانی کا بہا بڑھ کر 4 لاکھ 20 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا۔اوباڑو کے قریب ور والو اسٹاپ کے مقام پر ڈہر کینال سے گزرنے والی پل اچانگ گرگیا جس سے متعدد دیہات کا آپس میں زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ زمینی رابطہ منقطع ہو نے کی وجہ سے طلبہ سکول جانے سے محروم ہو گئے۔ مقامی افراد نے اعلی حکام سے فوری پل کی بحالی کا مطالبہ کیاہے۔ کوٹری بیراج پر سیلابی صورت حال سے ٹھٹہ میں کچے کے مزید کئی دیہات زیرِ آب آگئے جس کے نتیجے میں سیکڑوں ایکڑ پر چاول، کپاس، کیلے اور پپیتے سمیت کئی فصلیں شدید متاثر ہوگئیں۔ سیلابی صورتحال کے باعث مکینوں کی حفاظتی بند اور محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے، جام شورو میں انڑ پور، یونین کونسل شاہ اویس اور کچے کے دیہات میں پانی کا دبا بڑھنے لگا۔ نواب شاہ سکرنڈ مڈ منگلی حفاظتی بند کے مقام پر سیلابی صورتِ حال ہے جس کے باعث دیہات پانی میں گھِر گئے۔ضلع سجاول میں دریائے سندھ کے حفاظتی پشتوں پر سیلابی صورت حال برقرارہے، حفاظتی بندوں پر پانی کا بہا بڑھ گیا،ضلعی انتظامیہ کی جانب سے خیمہ بستیاں قائم کردی گئیں۔دوسری جانب دریائے چناب اور ستلج سے متاثرہ جلال پور پیر والا میں سیلابی پانی کم نہ ہوسکا، درجنوں بستیاں اب بھی زیرِ آب ہیں۔ اچ شریف روڈ پر سیلاب متاثرین گھر واپسی کے لیے پانی اترنے کے منتظر ہیں۔نوراجہ بھٹہ بند کے شگاف کی مرمت کا کام جاری ہے، ایم 5 موٹر وے ملتان سے جھانگڑا انٹر چینج تک 14ویں روز بھی بند ہے۔سیلاب سے متاثر سوئی گیس پائپ لائن کی مرمت کا کام بھی جاری ہے، رحیم یار خان، بہاول نگر اور بہاول پور کا وسیع رقبہ متاثرہوگیا جس کے بعد نقصانات کے سروے کا آغاز کردیا گیا ۔ادھر کچے کے علاقے دودو کلہوڑو میں تین بہنیں سیلاب کے پانی میں ڈوب گئیں۔ریسکیو ذرائع کے مطابق 15سالہ عمان ، 13سالہ زبیرا، 12سالہ حمیرا دریائے سندھ کے سیلابی پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہوئیں، پہلے 12 سالہ بچی ڈوبی، بہنوں نے بچانے کی کوشش میں جان گنوائی۔ریسکیو حکام نے بتایا کہ تینوں بہنوں کی لاشوں کو پانی سے نکال کر ورثاکے حوالے کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں