وکلاء کا تھانہ پر دھاوا،حوالات میں بند ملزم چھڑوا لیا

جڑانوالہ(نامہ نگار)پولیس تھانہ سٹی نے 34 نامزد اور 30نامعلوم وکلا کیخلاف دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا،وکلا برداری سراپا احتجاج عدالتوں کا بائیکاٹ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی کے سب انسپکٹر ارسلان نے اپنی مدعیت میں مقدمہ درج کرتے ہوئے تحریر کیا کہ رائے قذافی ،ملک خضر حیات کھوکھر،تجمل رزاق بلوچ،رائے احمد ارسلان،وقاص عرف وجی،رانا فیصل،عامر بلوچ،ملک یاسر اکرم،علی زوار شاہ،ارباز خان،رانا کونین،وقار عظیم گورہجہ،حافظ اللہ دتہ،میاں عبدالوحید،رانا طیب،رانا عدیل،طیب،ملک ندیم،عبدلرروف اٹھوال،رفیق اٹھوال،مںظور ناصر،طارق خورشید،عارف خان،ملک ضیا الرحمن،امجد علی ساجد،خوشنود تارڑ،ابوذر منج،رانا انیس الرحمن،عادل علی،سلیم عثمان،عاطف جٹ،وقاص ابراہیم،شیخ وقاص،احسن ایڈووکیٹس ہمراہ 30 کس نامعلوم وکلا نے تھانہ پر دھاوا بول دیا اور دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو گئے اور سب انسپکٹر ضغیم بلوچ سمیت پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنانا شروع کر دیا وکلا نے تھانہ میں توڑ پھوڑ کی اور پولیس حوالات سے ملزم زمان ولد ظفر ساکن الطاف پارک کو چھڑوا لیا پولیس نے وکلا کیخلاف دہشت گردی،کار سرکار میں مداخلت توڑ پھوڑ ملزم کو پولیس حراست سے فرار کروانے سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے پولیس نے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اضافی نفری طلب کی ہے دوسری جانب وکلا برادری نے عدالتوں کا بائیکاٹ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے وکلا کیخلاف حقائق کے برعکس جھوٹا مقدمہ درج کرکے سراسر زیادتی کی ہے۔ وکلاء برادری کا کہنا ہے کہ پولیس تھانہ سٹی نے وکلا کو تشدد کا نشانہ بنایا اور حوالات میں بند کیا تھا وکلا نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ وکلا برادری کیخلاف درج مقدمہ کو فی الفور خارج کیا جائے بصورت دیگر حالات کی ذمہ داری حکام بالا پر عائد ہو گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں