ٹیم کلچر کو بگڑنے سے بچانے کیلئے روہت شرما کو کپتانی سے ہٹایا گیا

نئی دہلی (سپورٹس نیوز)بھارتی کرکٹ ٹیم کے بلے باز روہت شرما کو ون ڈے ٹیم کی قیادت سے ہٹانے کا فیصلہ دراصل ‘ٹیم کلچر’ کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے کیا گیا۔یہ انکشاف بھارتی میڈیا ‘ٹائمز آف انڈیا’ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن انڈیا (بی سی سی آئی) نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا کہ نوجوان بلے باز شْبمن گِل کو آسٹریلیا کے خلاف آئندہ تین روزہ سیریز کے لیے وَن ڈے فارمیٹ کا کپتان مقرر کیا گیا ہے جس کے ساتھ ہی روہت شرما کی وَن ڈے کپتانی کا دور اختتام پذیر ہو گیا۔چیف سلیکٹر اجیت اگرکر نے اس حوالے سے کہا کہ تینوں فارمیٹس کے لیے الگ الگ کپتان رکھنا ‘عملی طور پر ناممکن’ تھا تاہم ‘ٹائمز آف انڈیا’ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ اس بات سے خوفزدہ تھی کہ اگر روہت قیادت جاری رکھتا ہے تو وہ اپنے ‘فلسفانہ قیادت’ کے مطابق ٹیم کو چلائے گا جس سے ٹیم کلچر متاثر ہو سکتا تھا۔رپورٹ میں ‘بی سی سی آئی’ کے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا کہ ‘روہت جیسے کھلاڑی کے پاس اگر قیادت ہوتی ہے تو وہ اپنی سوچ کے مطابق ڈریسنگ روم کو چلانے لگتا جس سے ٹیم کے مجموعی کلچر میں بگاڑ کا خدشہ پیدا ہو جات ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر نے اپنی ابتدائی چھ ماہ کی مدت میں ٹیم کے معاملات میں زیادہ مداخلت نہیں کی تھی لیکن نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شکستوں کے بعد اْنہوں نے زیادہ مضبوطی سے ٹیم پر گرفت حاصل کی۔بھارتی میڈیا کے مطابق گوتم گمبھیر نے ابتدا میں ٹیسٹ اور وَن ڈے ٹیمز کے معاملات میں پیچھے رہنے کا فیصلہ کیا تھا مگر مسلسل ناکامیوں نے اِنہیں متحرک کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں