10ممالک کے پاس سب سے زیادہ سونے کے ذخائر

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں سونا اس سال نہ صرف بڑھا بلکہ تاریخ ساز سطح پر پہنچ گیا، ستمبر سے اب تک سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جو کہ پہلی بار 4 ہزار ڈالر فی اونس کی بلند ترین سطح عبور کر چکا ہے ، گولڈ کی قیمت میں صرف چند ماہ میں 50 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جس سے سونا دنیا کی سب سے زیادہ منافع دینے والی سرمایہ کاریوں میں شامل ہو گیا ہے۔ورلڈ گولڈ کونسل کی تازہ رپورٹ کے مطابق، اگست 2025 میں مرکزی بینکوں نے 15 ٹن سے زائد سونا خریدا، جس سے سالانہ خریداری کی مجموعی مقدار ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔یہ ہیں دنیا کے 10 بڑے ممالک جن کے پاس سب سے زیادہ سونے کے ذخائر موجود ہیں:امریکا کئی دہائیوں سے اس فہرست میں سرفہرست ہے۔ بیشتر ذخائر فورٹ ناکس اور نیویارک فیڈ میں محفوظ ہیں۔ حالیہ برسوں میں کوئی بڑی خرید و فروخت نہیں ہوئی، صرف ذخائر کو مستحکم رکھا گیا ہے۔یورپ کی معیشت کا مرکز جرمنی حالیہ برسوں میں اپنے سونے کا بڑا حصہ واپس ملک میں منتقل کر چکا ہے۔ سونا جرمنی کی اقتصادی پالیسی کا ایک محفوظ ستون سمجھا جاتا ہے۔اٹلی کے پاس سونا دوسری جنگِ عظیم کے بعد کے دور سے موجود ہے، جو مختلف شہروں میں محفوظ ہے۔ معاشی بحران کے وقت یہ ذخائر ملکی اعتماد کے لیے اہم کردار ادا کرتے ہیں۔فرانس نے بھی اپنے ذخائر کو بڑی حد تک محفوظ رکھا ہے۔ سونا فرانس کی کرنسی کو عالمی سطح پر متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔روس نے پابندیوں کے دوران سونے کی خریداری میں اضافہ کیا۔ سونا روس کے لیے مغربی مالیاتی نظام پر انحصار کم کرنے کا ذریعہ بن چکا ہے۔چین مسلسل سونا خرید رہا ہے۔ اگست میں مزید 2 ٹن اضافہ کیا گیا۔ چین سونے کے ذخائر بڑھا کر یوان کی بین الاقوامی حیثیت مستحکم کرنا چاہتا ہے۔چھوٹا مگر مالی طور پر طاقتور ملک، سوئٹزرلینڈ اپنے محفوظ بینکنگ نظام کی بدولت نمایاں ہے۔بھارت نے اس سال سونے کے ذخائر میں اضافہ کیا ہے۔ تہواروں اور زیورات کی مانگ کے باعث ریزرو بینک نے سونا خرید کر روپے کو سہارا دیا۔جاپان کے ذخائر کئی دہائیوں سے تقریبا مستحکم ہیں۔ سونا جاپانی ین کے استحکام کے لیے بطور حفاظتی اقدام رکھا جاتا ہے۔ترکیہ تیزی سے ٹاپ 10 میں شامل ہوا ہے۔ رواں سال اب تک 21 ٹن سے زائد سونا خریدا جا چکا ہے۔ افراطِ زر اور کرنسی بحران سے نمٹنے کے لیے ترکیہ نے سونا معیشت کی پناہ گاہ کے طور پر اپنایا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں