پشاور میںFCہیڈ کوارٹر پر حملہ

پشاور(بیوروچیف) پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) کے ہیڈکوارٹرز پر دہشت گردوں نے خودکش حملہ کیا جسے الرٹ سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا، گیٹ پر خودکش دھماکے سے3اہلکار شہید ہو گئے جبکہ ایف سی جوانوں کی فوری کارروائی میں خودکش بمبار سمیت 3 دہشت گرد جہنم واصل ہو گئے۔سی سی پی او پشاور نے بتایا کہ تین خودکش حملہ آوروں نے حملہ کیا، ایک نے خود کو گیٹ پر صبح آٹھ بج کر دس منٹ پر دھماکے سے اڑایا، دھماکے میں گیٹ پر تعینات 3 اہلکار شہید ہوئے، دو حملہ آور دھماکے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔میاں سعید نے مزید بتایا کہ ہیڈکوارٹرز میں نفری الرٹ تھی ، اندر داخل ہونے والے دونوں حملہ آوروں کو فوری ہلاک کردیا گیا، ایف سی ہیڈکوارٹرز کو اندر سے مکمل طور پر کلیئر کر دیا گیا ہے۔ترجمان ریسکیو کے مطابق دھماکے کے 5 زخمیوں کو ایل آر ایچ منتقل کیا گیا، زخمیوں کی حالت تسلی بخش ہے، زخمیوں میں دو ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں، زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔سی سی پی او نے مزید بتایا کہ ملک سمیت خیبرپختونخوا بھی امن وامان کے حوالے سے ہائی الرٹ پر ہے، ایف سی جوان بالکل الرٹ تھے جوان بالکل الرٹ تھے، اس لیے خودکش حملہ آوروں کو اندر داخل ہونے ہی نہیں دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ خودکش حملہ آور فیڈرل کانسٹیبلری کی بیرک میں جاکر لوگوں کو یرغمال بناسکتے تھے، فیڈرل کانسٹیبلری کے الرٹ جوانوں نے فوری ریسپانس کیا، حملہ آوروں کی شناخت کے لیے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ صدر، کوہاٹ روڈ میں آج صبح تقریبا آٹھ بجے فتنہ الخوارج کے خوارجین نے فیڈرل کانسٹبلری ہیڈکوارٹر پر حملے کی ناکام کوشش کی، خوارجین نے فیڈرل کانسٹبلری ہیڈکوارٹرکے گیٹ پر خود کش دھماکا کیا۔سکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ خود کش دھماکے کے بعد دو خوارجین نے ہیڈکوارٹر میں گھسنے کی کوشش کی جن کو مار دیا گیا، تینوں حملہ آور جہنم واصل ہو چکے ہیں، فائرنگ کی آواز رک گئی ہے۔سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی کہ حملے میں فیڈرل کانسٹبلری کے تین اہل کار شہید ہوئے جبکہ دو زخمی ہیں، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، علاقے کی کلیئرنس کی جا رہی ہے۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری ہے، دھماکہ اس وقت ہوا جب کوارٹر میں پریڈ جاری تھی، پریڈ کے وقت 450 اہلکار موجود تھے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ 3 خود کش حملہ آور پیدل آئے، تمام دہشت گردوں نے خود کش بمبار جیکٹس پہنی تھیں، دہشت گردوں کی عمریں 18 سے 22 سال کے درمیان تھیں۔بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد منصوبہ بندی کے تحت آئے تھے، دہشت گردوں کا ٹارگٹ پریڈ تھی۔قبل ازیں آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے بتایا کہ ایف سی ہیڈکوارٹرز صدر پر دو خودکش دھماکے کیے گئے، ایک دھماکا صدر دروازے پر کیا گیا جبکہ دوسرا موٹرسائیکل سٹینڈ پر ہوا۔آئی جی نے مزید بتایا کہ دو حملہ آور فائرنگ کے تبادلے میں مارے جا چکے ہیں جبکہ دو ایف سی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا، آپریشن میں ایف سی اور پاک فوج کے جوان حصہ لے رہے ہیں، ایف سی ہیڈکوارٹرز اور آس پاس کے علاقوں کو بھی گھیرے میں لے لیا گیا۔پولیس نے آس پاس کے علاقوں میں بھی سرچ آپریشن کیا جبکہ داخلی و خارجی راستے بھی مکمل بند کر دیئے گئے۔اس سے پہلے سی سی پی او میاں سعید نے کہا کہ علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا، آپریشن شروع کر دیا گیا ہے، فائرنگ کا تبادلہ ہو رہا ہے، میں خود آپریشن لیڈ کررہا ہوں۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکوں کی شدت سے قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے، صدر روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا، سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے، پشاور کے داخلی و خارجی راستے بھی سیل کر دیے گئے۔ڈی سی پشاور ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پشاور کے تمام ہسپتالوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ریسکیو ترجمان کا کہنا ہے کہ دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ایمبولینسز اور ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے ہیں۔وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی کی بدولت بڑے نقصان سے بچ گئے، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ واقعہ کے ذمہ داران کی جلد از جلد شناخت کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے، پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے مزموم عزائم کو خاک میں ملا دیں گے۔دریں اثنائ۔،کوئٹہ(بیوروچیف) زیارت میں دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام بناتے ہوئے 5مشتبہ افغان دہشت گرد گرفتار کرلیے گئے۔ لیویز فورس نے ضلع زیارت میں ایک کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کرتے ہوئے دہشت گردی کا ایک بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا ۔ بروقت کارروائی کے دوران 5مشتبہ دہشت گردوں کو زندہ گرفتار کر لیا گیا ہے، جن کا تعلق قندہار، افغانستان سے بتایا جاتا ہے۔گرفتار ملزمان کو سپیرا رغہ لیویز چیک پوسٹ کے قریب سے حراست میں لیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ آپریشن خالصتا لیویز فورس کی انٹیلی جنس اور فیلڈ ٹیموں کی پیشہ ورانہ مہارت کا نتیجہ ہے جس میں ضلعی انتظامیہ کی حمایت بھی شامل تھی۔ ملزمان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، دھماکا خیز مواد اور مواصلاتی آلات برآمد ہوئے ہیں، جس میں 11ہینڈ گرینیڈز، 15ایس ایم جی گرینیڈز، 3سب مشین گنز (ایس ایم جی)، 2ایم فور رائفلز (پارٹس کی صورت میں)، 9ایم فور میگزینز، 14ایس ایم جی میگزینز، 420ایس ایم جی رانڈز، 230ایم فور رانڈز، ایک کلو بارودی مواد، ایک گرینیڈ لانچر، 2آر پی جی راکٹس، 6وائرلیس سیٹس، 4موبائل فونز، ایک ڈگر، 13 ایمونیشن بیگز، 16پاور سیلز، ایک سوزوکی کیری وین، ایک موٹر سائیکل اور کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا لٹریچر شامل ہے۔دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کامیاب آپریشن کو سراہتے ہوئے لیویز فورس اور ضلعی انتظامیہ کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لیویز فورس جیسی مقامی فورسز بلوچستان کے امن و استحکام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ ان کی قربانیاں اور بروقت اقدامات دہشت گردوں کے عزائم کو خاک میں ملا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت تمام سکیورٹی اداروں کی پوری طاقت سے پشت پر کھڑی ہے اور دہشت گردی کے خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار دہشت گردوں سے تفتیش جاری ہے جس سے صوبے میں مزید دہشت گرد نیٹ ورکس کے بارے میں اہم انکشافات متوقع ہیں۔ یہ آپریشن بلوچستان میں امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں