پھیپھڑوں کے کینسر کی اہم وجہ دریافت

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا بھر میں کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے اور پھیپھڑوں کا کینسر سرطان کی سب سے زیادہ تشخیص ہونے والی قسم ہے۔2022ء میں دنیا بھر میں کینسر کے 12.4 فیصد کیسز پھیپھڑوں کے سرطان کے تھے۔اموات کی تعداد کے لحاظ سے بھی پھیپھڑوں کا کینسر سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔2022 میں کینسر کی مجموعی اموات میں سے 18.7 فیصد اموات پھیپھڑوں کے کینسر سے ہوئی۔ویسے تو تمباکو نوشی اور فضائی آلودگی کو پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار بنانے والی اہم ترین وجوہات قرار دیا جاتا ہے مگر ایک نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ آپ کا غذائی انتخاب بھی پھیپھڑوں کے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھا سکتا ہے۔جرنل Annals of Family Medicine کی تحقیق میں بتایا کہ آپ جو غذا کھاتے ہیں وہ پھیپھڑوں کے کینسر کے خطرے کا بھی تعین کرسکتی ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ غذا میں موجود کاربوہائیڈریٹس (مخصوص اقسام) بھی پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔اس تحقیق میں پھیپھڑوں کے کینسر کا شکار ہونے والے 1700 سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا اور ان کی صحت کا 12 سال تک جائزہ لیا گیا۔تحقیق میں ان افراد کی غذائی اور طرز زندگی کی عادات کو ٹریک کیا گیا تھا۔اس تحقیق میں غذا میں کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کی بجائے یہ دیکھا گیا کہ جن کاربوہائیڈریٹس کے استعمال سے بلڈ شوگر کی سطح تیزی سے بڑھتی ہے، وہ کس طرح اثرات مرتب کرتے ہیں۔مختلف غذائیں جیسے سفید ڈبل روٹی، میٹھی اشیا اور پراسیس اجناس کے استعمال سے بلڈ شوگر کی سطح میں برق رفتاری سے اضافہ ہوتا ہے۔اس کے مقابلے میں سالم اناج، بیج اور مخصوص پھلوں کے استعمال سے بلڈ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافہ نہیں ہوتا۔فائبر، پروٹین یا صحت کے لیے مفید چکنائی سے بھرپور غذاں میں موجود کاربوہائیڈریٹس سست روی سے جسم میں جذب ہوتے ہیں۔جو کا دلیہ، چنے، پالک، مشروم، گاجر، سیب، ناشپاتی، آڑو، بیریز، دودھ، دہی (بغیر چینی کے) دالوں، بران چاول اور شملہ مرچ وغیرہ صحت کے لیے مفید غذائیں ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ جن غذاں کے استعمال سے بلڈ شوگر کی سطح میں برق رفتاری سے اضافہ ہوتا ہے، ان سے پھیپھڑوں کے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ایسے افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ 13 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔اس کے مقابلے میں صحت کے لیے مفید غذاں کے استعمال سے پھیپھڑوں کے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ 28 فیصد تک گھٹ جاتا ہے۔محققین کے مطابق پھیپھڑوں کے کینسر کا خطرہ بڑھانے والی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے اور 85 فیصد کیسز اسی کا نتیجہ ہوتے ہیں۔اس سے ہٹ کر غذائی عادات بھی کردار ادا کرتی ہیں جبکہ فضائی آلودگی سے بھی یہ خطرہ بڑھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ نتائج کی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے مگر یہ واضح ہے کہ غذا کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔اس سے قبل جولائی 2025 میں جرنل Thorax میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ اگر آپ برگر یا فاسٹ فوڈ کھانے کے شوقین ہیں تو اس عادت سے بھی پھیپھڑوں کے کینسر سے متاثر ہونے کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔اس تحقیق میں ایک لاکھ سے زائد بالغ افراد کی صحت اور غذائی عادات کا جائزہ 12 سال تک لیا گیا۔اس عرصے میں 1706 افراد میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔غذائی عادات سے متعلق سوالناموں کے ڈیٹا سے انکشاف ہوا کہ الٹرا پراسیس غذاں بشمول آئس کریم، تلی ہوئی غذائی، ڈبل روٹی، کیک، پیسٹری، نمکین اشیا، ناشتے کے cereals، انسٹنٹ نوڈلز، مارجرین، سافٹ ڈرنکس، چینی سے بنے فروٹ جوسز، برگر اور پیزا وغیرہ کے استعمال سے کینسر کی اس قسم کا خطرہ بڑھتا ہے۔واضح رہے کہ الٹرا پراسیس غذائیں تیاری کے دوران متعدد بار پراسیس کی جاتی ہیں اور ان میں نمک، چینی اور دیگر مصنوعی اجزا کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جبکہ صحت کے لیے مفید غذائی اجزا جیسے فائبر کی مقدار بہت کم ہوتی ہے۔ان غذاں کو متعدد دائمی امراض جیسے امراض قلب، کینسر اور دیگر سے منسلک کیا جاتا ہے۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ان غذاں کے استعمال سے پھیپھڑوں کے کینسر کی مختلف اقسام کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔محققین نے بتایا کہ ابھی ان نتائج سے مکمل طور پر ٹھوس قرار نہیں دیا جاسکتا اور تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔مگر ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے یہ عندیہ ضرور ملتا ہے کہ الٹرا پراسیس غذاں کا استعمال محدود کیا جانا چاہیے، اس طرح پھیپھڑوں کے کینسر کے کیسز کی تعداد میں کمی لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں