اسلام آباد(بیورو چیف)کووڈ19صحت کے حوالے سے عالمی سطح پر ہمیشہ چیلنجنگ اور متنازع رہا ہے۔ امریکی ایف ڈی اے کے چیف میڈیکل افسر وِنے پرساد کی ایک اندرونی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کم از کم دس بچوں کی اموات کا ممکنہ تعلق ویکسین کے بعد دل کی سوزش سے ہو سکتا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے چیف میڈیکل اینڈ سائنسی افسر وِنے پراساد نے اپنے ایک اندرونی میمو میں کہا کہ ابتدائی تحقیق کے مطابق کم از کم دس اموات کا ممکنہ تعلق کووِڈ19 ویکسین سے ہے۔ یہ جائزہ 2021 سے 2024 کے دوران بچوں کی 96 اموات کی رپورٹس کا تجزیہ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔پرساد نے لکھا کہ بچوں کی یہ اموات، جن کی عمر 7 سے 16 سال کے درمیان تھی، یہ جاننا تکلیف دہ تھا اور یہ معاملہ سنجیدہ غور کا متقاضی ہے۔ پرساد نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ ویکسین کی نگرانی کے طریقہ کار کو مزید سخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، ایف ڈی اے کے تازہ جائزے کے نتائج ابھی کسی سائنسی جریدے میں شائع نہیں ہوئے ہیں جہاں ماہرین نے انہیں تصدیق کیا ہو۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کی ویکسین کمیٹی آئندہ ہفتے اس معاملے پر اجلاس کرے گی۔پرساد، جو ایک آنکولوجسٹ ہیں، ماضی میں کورونا ویکسین اور ماسک کے سرکاری احکامات کے بھی ناقد رہ چکے ہیں۔ وہ رواں سال ستمبر میں دوبارہ ایف ڈی اے کے سائنسی و طبی سربراہ مقرر کیے گئے تھے۔وِنے پراساد کے موقف پر ماہرین کے درمیان اختلاف بھی سامنے آیا ہے۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی پروفیسر ڈورِت رائس کا کہنا ہے کہ غیر شائع شدہ اور نامکمل تحقیق کی بنیاد پر ویکسین پالیسی میں تبدیلی کی تجویز دینا مناسب نہیں۔ ان کے مطابق بچوں کے لیے ویکسین سے متعلق فیصلہ سازی صرف مستند اور مکمل ڈیٹا کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی وزیرِ صحت رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر پہلے ہی کووِڈ ویکسین کو صرف 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد اور وہ لوگ جنہیں پہلے سے طبی مسائل ہیں، تک محدود کر چکے ہیں۔ کینیڈی ماضی میں بھی ویکسین پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے موجودہ پالیسی میں ان کا اثر واضح دکھائی دے رہا ہے۔سی ڈی سی کے اعداد و شمار کے مطابق 4 جنوری 2020 سے 24 جون 2023 تک پانچ سے اٹھارہ سال کی عمر کے 1,071 افراد کووِڈ19 کے باعث جاں بحق ہوئے۔ اگرچہ ویکسین کے ماہرین نے عمومی طور پر کووِڈ19 ویکسین کو مثر قرار دیا ہے، پرساد کے جمعہ کے میمو میں کہا گیا کہ اس وقت یہ معلوم کرنا ممکن نہیں کہ ویکسین کے فوائد ممکنہ خطرات سے زیادہ تھے یا نہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2020 سے جون 2023 تک امریکہ میں پانچ سے اٹھارہ سال کی عمر کے 1,071 بچے کووِڈ19 کے باعث جاں بحق ہوئے۔ طبی ماہرین عمومی طور پر یہ مقف رکھتے ہیں کہ کووڈ۔19 ویکسین مثر ثابت ہوئی ہے۔ پراساد کے میمو میں کہا گیا کہ اس وقت یہ معلوم کرنا ممکن نہیں کہ ویکسین کے فوائد ممکنہ خطرات سے زیادہ تھے یا نہیں۔موجودہ حالات میں امریکی ادارے اس بات پر ازسرِ نو غور کر رہے ہیں کہ بچوں کے لیے کووِڈ19 ویکسینیشن کی پالیسی کیا ہو۔ آئندہ ہفتوں میں ایف ڈی اے اور سی ڈی سی کے فیصلے اس بحث کی سمت کا تعین کریں گے اور اسی سے اندازہ ہوگا کہ مستقبل میں بچوں کے لیے ویکسین پروگرام کس حد تک تبدیل ہو سکتا ہے۔پچھلے ماہ شائع ہونے والی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسین کے جدید ورژنز نے امریکی فوجی بزرگوں میں شدید بیماری، ہسپتال میں داخل ہونے اور موت کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دی۔




