سعودیہ کی ثالثی میں پاک افغان مذاکرات

کابل /اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک /بیورو چیف) افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے بعض ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت کا ایک وفد پاکستان سے مذاکرات کے لیے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض گیا تھا۔دونوں فریقین کو سعودی عرب نے مذاکرات کے لیے ثالثی کی پیشکش کی تھی۔ذرائع کے مطابق، دونوں ملکوں کے وفود کے درمیان گذشتہ روز مذاکرات ہوئے تاہم اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔تاحال یہ بھی واضح نہیں ہے کہ آیا ان مذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔ طالبان حکومت کے ایک ذریعے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ وفد ریاض گیا تھا جو آج کابل واپس آ رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق، افغان طالبان کے وفد میں نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب، طالبان حکومت کے سیاسی کمیشن کے رکن انس حقانی اور وزارت خارجہ کے عہدیدار عبدالقہار بلخی شامل تھے۔پاکستانی حکومت کی جانب سے اب تک سعودی عرب میں ہونے والے مذاکرات کے متعلق سرکاری سطح پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ سعودی عرب کی ثالثی کی نئی کوششیں کابل اور اسلام آباد کے درمیان کس حد تک کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔نومبر کے اوائل میں استنبول میں ترکی اور قطر کی ثالثی میں طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کی ناکامی کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں فریق مذاکرات کی میز پر لوٹے ہیں۔اس بارے میں بھی کوئی اطلاع نہیں کہ آیا دونوں وفود کے مابین براہِ راست مذاکرات ہوئے ہیں۔ لیکن دوحہ اور استنبول میں ایسے مذاکرات اکثر ثالثوں کی وساطت سے ہوتے رہے ہیں۔یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ اسلام آباد اقوام متحدہ کی درخواست پر افغانستان میں انسانی امداد کی ترسیل کے لیے راستے کھول سکتا ہے۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے باضابطہ طور پر پاکستان سے درخواست کی ہے کہ وہ افغانستان میں انسانی امداد کی فراہمی کے لیے دوبارہ راستے کھول دے۔افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے ایک ذریعے نے بتایا کہ پاکستان نے اب تک اپنے کمشنر یا سرحدی محافظوں کو راستے کھولنے کا حکم جاری نہیں کیا ہے۔یاد رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد تقریباً 50روز سے آمد و رفت اور تجارت کے لیے بند ہے، صرف پاکستان سے لوٹنے والے افغان مہاجرین کو ہی افغانستان داخل ہونے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں