ضلعی پولیس کا منشیات فروشوں کیخلاف کریک ڈاؤن،ہسپتال نشئیوں سے بھر گئے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سی سی ڈی اور ضلعی پولیس کی جانب سے منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈائون ومقابلوں میں متعدد بدنام زمانہ منشیات فروشوں کو ہلاک’ زخمی ہونے کیساتھ ساتھ پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری’ شہر بھر میں منشیات نہ ملنے پر نشیئوں نے علاج معالجہ کیلئے ہسپتالوں کا رُخ کرنا شروع کر دیا، ڈی ایچ کیو میں انسداد منشیات وارڈ نشیئوں سے بھر گئی جبکہ ری ہیبلیٹیشن سنٹرز میں بھی نشیئوں کا رش لگ گیا، سرکاری سطح پر منشیات کے (بحالی) ری ہیبلیٹیشن سنٹرز کا قیام عمل میں نہ لایا جا سکے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب کی جانب سے منشیات کے خاتمہ کیلئے سی سی ڈی اور ضلعی پولیس کو ٹاسک دیا گیا تاکہ نوجوان نسل کو منشیات کے استعمال سے بچایا جا سکے۔ تاہم آر پی او سہیل اختر سکھیرا’ سی پی او صاحبزادہ بلال عمر کی ہدایت پر سی سی ڈی اور ضلعی پولیس نے گزشتہ دنوں بھرپور کارروائیاں کرتے ہوئے بدنام زمانہ منشیات فروشوں’ سپلائرز اور ان کے کارندوں کو گرفتار کیا اور متعدد بدنام منشیات فروش وسپلائرز مبینہ پولیس مقابلوں میں ہلاک وزخمی بھی ہوئے اور ان کے کارندوں نے بھی منشیات کی سپلائی روک دی اور علاقوں سے غائب ہو گئے۔ جسکی وجہ سے نشہ کرنے والے نشئی افراد کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے اور اکثر نشیئوں نے منشیات سے بچنے کیلئے علاج معالجہ کیلئے ہسپتالوں’ ری ہیبلیٹیشن سنٹرز کا رخ کر لیا ہے جبکہ ضلع کے ڈی ایچ کیو ہسپتال الائیڈ ٹو میں انسداد منشیات وارڈ بھی مریضوں سے بھر گئی اور روزانہ کی بنیاد پر نشئی علاج معالجہ کیلئے ہسپتالوں کا رُخ کرنے لگے اور پرائیویٹ طور پر قائم ہونے والے ری ہیبلیٹیشن سنٹرز نے بھی لوٹ مار کا بازار گرم کر لیا اور نشیئوں کے علاج معالجہ کیلئے منہ مانگی فیسیں وصول کرنے لگے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ڈویژن فیصل آباد میں سرکاری سطح پر کوئی بھی ری ہیبلیٹیشن سنٹرز موجود نہ ہیں۔ شہری حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری سطح پر شہر میں جلد ازجلد انسداد منشیات کے ری ہیبلیٹیشن سنٹرز قائم کئے جائیں تاکہ نشہ کی لت میں مبتلا افراد کا بہترانداز میں علاج معالجہ ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں