معیشت کو بحرانوں سے بچانے کیلئے ٹیکسٹائل سیکٹر،بزنس کمیونٹی سے مشاورت ناگزیر ہے،صدرFCCIفاروق یوسف

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)ملکی معیشت کو بحرانوں سے بچانے کیلئے فوری طور پر چیمبرز اور ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ نمائندہ تنظیموں کی مشاور ت سے طویل المدتی حکمت عملی وضع کرنا ہو گی۔ یہ بات فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر فاروق یوسف شیخ نے ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ مختلف تنظیموں کے نمائندوں کے ہمراہ مشتر کہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بزنس کمیونٹی ٹیکسٹائل کے شعبہ کے مسائل کو مسلسل کئی سالوں سے اجاگر کرنے کیساتھ حکام کو ان کے ممکنہ مضمرات اور قابل عمل سفارشات سے بھی آگاہ کرتی چلی آرہی ہے۔ مگر تاحال مسائل کے حل کیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے برا مسئلہ بڑھتی ہوئی کاروباری لاگت ہے جس نے عالمی منڈیوں میں ہماری مصنوعات کو سخت دھچکا لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بار بار کہہ چکے ہیں کہ بد انتظامی اور ٹیکسوں کو برآمد نہیں کیا جاتا مگر تمام معاملات کو سمجھنے کے باوجود حکومتی ادارے کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں جس سے صنعتی پیداوار اور برآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجلی پر کراس سبسڈی ختم کی جائے۔ Peak Hourکا چکر ختم کیا جائے اور شرح سود کو 7فیصد پر لایا جائے تاکہ بند صنعتوں کے علاوہ کم استعداد کار پر چلنے والی صنعتوں کو بھی پوری صلاحیت کے مطابق چلایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کی فراہمی اہم مسئلہ ہے حکومت کو نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کو روزگار مہیا کرنے کیلئے بھی ٹیکسٹائل سیکٹر پر ہی انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ صنعت بند ہوئی تو ہمارے نوجوان غلط راستوں پر چل پڑیں گے اور امن وامان کی صورتحال بے قابو ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے حکومت تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لیکر پالیسیاں بنائے تاکہ صنعتوں کا پہیہ چلے اور برآمدات کے اہداف کو بھی بآسانی حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ صنعتوں کے دیگر مسائل کو حل کرنے کیلئے ون ونڈوسکیم متعارف کرائی جائے اور انہیں 32قسم کے محکموں سے نجات دلائی جائے ۔ اس موقع پر دیگر تاجر راہنمائوں نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اگر حکومت نے ہمارے جائز مطالبات تسلیم نہ کئے اور دو ماہ کے بعد ہڑتال کی کال دی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں