آدھی مچھلی آدھا انسان، پراسرار ڈھانچہ دریافت

ٹوکیو( مانیٹرنگ ڈیسک )جاپان میں ایک قدیم مکان سے “آدھی مچھلی اور آدھے انسان پر مشتمل حنوط شدہ ڈھانچے کی دریافت نے سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔تفصیلات کے مطابق جاپان کے علاقے فوکوشیما کے ایک قدیم مکان سے ایک ایسا ہیبت ناک ڈھانچہ ملا ہے، جو آدھا انسان اور آدھی مچھلی مشابہت رکھتا ہے۔اس دریافت نے جہاں ماہر ین آثارِ قدیمہ کو حیران کر دیا ہے، وہی اس ڈھانچے کو دیکھ کر مقامی لوگ اسے جاپانی لوک کہانیوں کے مشہور کردار “کاپا کی موجودگی کا ثبوت قرار دے رہے ہیں۔اس پراسرار ڈھانچے کی ساخت انتہائی خوفناک ہے ، اس کے منہ میں استرے کی طرح تیز دانت، ہاتھوں کی بڑی انگلیاں اور نچلا دھڑ مچھلی کی دم جیسا ہے۔بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈھانچہ جاپانی اساطیر میں موجود آبی بلا “کاپا (Kappa) کی نمائندگی کرتا ہے، “کاپا کو روایتی طور پر دریاؤں اور تالابوں میں رہنے والی ایسی مخلوق مانا جاتا ہے جو انسانوں اور مویشیوں کو پانی میں کھینچ کر لے جاتی تھی۔اگرچہ یہ دریافت دیکھنے میں کسی قدیم آبی مخلوق کا ثبوت لگتی ہے، تاہم محققین نے ابھی تک اس کے حقیقی ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ماہرین کے ایک حلقے کا ماننا ہے کہ یہ ماضی میں مذہبی مقاصد یا سیاحوں کو متاثر کرنے کے لیے بنایا گیا ایک فن پارہ بھی ہو سکتا ہے، فی الحال یہ ڈھانچہ سائنس دانوں اور اساطیری کہانیوں کے شوقین افراد کے درمیان بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔اس “حنوط شدہ کاپا کو جاپان کے شہر یونی زاوا کی سٹی سٹیزن گیلری میں 28 اور 29 مارچ کو “اوشو ریئر ٹریژرز مارکیٹ میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔تقریب کے منتظم تاکی یوکی کیمورا کے مطابق جاپان میں اس طرح کے صرف 10 کے قریب ڈھانچے موجود ہیں۔ اس نایاب نمونے کی متوقع قیمت 11,755 برطانوی پاؤنڈ (تقریبا 42 لاکھ پاکستانی روپے) لگائی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں