ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی خبررساں ادارے رائٹرز نے یہود وہنود گٹھ جوڑ کے بھارتی معیشت پر بدترین منفی اثرات کا پول کھول دیا۔ رائٹرز کے مطابق مشرق وسطی میں جنگ کے باعث بھارتی شیئرزمارچ2020ء کے بعد بدترین سطح پر پہنچ گئے۔پاک بھارت کشیدگی، امریکی تجارتی دباواور ایرانی جنگ کے اثرات کی وجہ سے بھارتی بینکوں کے حصص 2.5 فیصد تک گر گئے، مشرق وسطی تنازع کے باعث بھارت کا نجی شعبہ 3 سال کی کمزور ترین شرح نمو پر پہنچ گیا۔بھارت کی جی ڈی پی نمو 8.4 فیصد سے کم ہو کر 7.8 فیصد، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتوں میں 40 فیصد سے زائد اضافہ ہوا۔بھارتی حکام نے 1.3 فیصد تک بڑھ جانے والے کرنٹ اکانٹ خسارے میں مزید اضافہ کی پیش گوئی کر دی۔ عالمی ماہرین کے مطابق مودی کی نااہلی نے بھارتی معیشت کو توانائی، کرنسی اور ترسیلات زر کے بحران میں دھکیل دیا ہے۔مودی کی بدترین حکمت عملی اور دوغلی پالیسیوں کے باعث بھارت غیرملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد کھو چکا ہے۔



