اسلام آباد(بیوروچیف) پاکستان میں زرعی ترقی کا نیا باب، گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت بنجر زمینوں کو قابلِ کاشت بنانے کے لیے موثر اقدامات جاری ہیں، جبکہ جدید زرعی منصوبے تیزی سے کامیابی کی جانب گامزن ہیں۔گرین پاکستان انیشیٹو کے تحت چولستان کے وسیع صحرا میں جدید ٹیکنالوجی اور موثر حکمتِ عملی کے ذریعے بنجر زمین کو زرخیز بنانے کی عملی مثال سامنے آئی ہے، جہاں پینٹیرا فارمز نے نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔پراجیکٹ منیجر ڈاکٹر عطا اللہ کے مطابق پینٹیرا فارمز کے اقدامات سے نہ صرف بنجر زمین قابلِ کاشت بنی بلکہ مقامی افراد کو روزگار کے مواقع بھی میسر آئے، جس سے علاقے کی معیشت کو براہِ راست فائدہ پہنچ رہا ہے۔مقامی کسانوں کا کہنا ہے کہ پینٹیرا کمپنی کی آمد سے علاقے میں ہریالی آئی، بنیادی سہولیات میں بہتری ہوئی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے۔ ان کے مطابق دور افتادہ اور کٹھن راستوں تک رسائی بھی ممکن بنائی گئی ہے۔پینٹیرا فارمز کے سی ای او فرقان علی کے مطابق فارم میں جدید اور اسمارٹ زرعی نظام متعارف کرایا گیا ہے جس میں سینٹرل پیوٹ، ڈرپ اریگیشن اور ڈرون کے ذریعے پیسٹی سائیڈ اسپرے جیسی جدید ٹیکنالوجی شامل ہے۔انہوں نے بتایا کہ چولستان میں پانی کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کے لیے 7 سے 8 کلومیٹر طویل اندرونی نہری نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔ماہرین کے مطابق بنجر زمینوں کی بحالی، جدید زراعت کے فروغ اور زرعی خود کفالت کے حصول میں گرین پاکستان انیشیٹو کا کردار کلیدی ہے۔



