ٹرمپ کا جلد ایران جنگ ختم کرنے کا اعلان

واشنگٹن(بیوروچیف) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر دیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ امریکا 2سے 3ہفتوں میں ایران جنگ سے نکل جائے گا، ممکنہ طور پر اس سے پہلے ڈیل ہو سکتی ہے، جنگ ختم کرنے کیلئے ایران سے ڈیل ضروری نہیں، امریکی عوام کوبتانا چاہتا ہوں کہ ایک شخص ایٹم بم بنانا چاہتا تھا اس لیے کارروائی کی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ رجیم چینج میرا مقصد نہیں تھا، میرا مقصد تھا کہ ایٹم بم نہ ہو، یورپی ممالک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پھر بولے فرانس اور کوئی دوسرا ملک آئل، گیس چاہتا ہے تو آبنائے ہرمز سے جاکر لے لیں، میرا خیال ہے وہ اپنا دفاع کر سکیں گے۔امریکی صدر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہوگا اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہوگا، چین جائے اور اپنے بحری جہازوں کو تیل سے بھر لے، انہیں اپنی حفاظت خود کرنا ہوگی، کوئی وجہ نہیں کہ ہم ان کی حفاظت کریں۔صدر ٹرمپ نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لوگ مجھ پر بادشاہ ہونے کا الزام لگاتے ہیں، یہ لوگ پچھلے 4 سال کے دوران کیا کرتے رہے، وہ چاہتے ہیں بارڈر کھلے رکھیں اور کرمنلز امریکا میں داخل ہوں۔دریں اثناء ۔تہران(مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران امریکا اور اسرائیل سے جنگ ختم کرنے کو تیار ہے لیکن ضمانت دی جائے کہ تنازع دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گاایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوستا سے ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں مضبوط ضمانتیں دی جائیں کہ مستقبل میں ان پر دوبارہ حملہ نہیں کیا جائے گا تو وہ امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف جاری لڑائی ختم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنے ہمسایہ ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور کبھی بھی انہیں نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں کی، تاہم ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں پر حملہ کرنے کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں رہا۔مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایرانی فوج کی مزاحمت اور ایرانی عوام کے اتحاد نے نازک حالات پر قابو پانے میں مدد دی۔اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا تھا کہ ایران صرف جنگ بندی نہیں چاہتا بلکہ اس جنگ کا مکمل اور جامع خاتمہ چاہتا ہے۔عرب میڈیا سے گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ امریکی نمائندہ خصوصی کی جانب سے براہ راست پیغامات موصول ہو رہے ہیں، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے، البتہ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ سکیورٹی سے متعلق کچھ بات چیت پاکستان کے ذریعے جاری ہے۔ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو وہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں