ممبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت آمرانہ طرز حکومت کے تحت انٹرنیٹ بندش کرنے والے بدترین ممالک میں سرفہرست آگیا۔انتہا پسند نظریات اور اندرونی خلفشار میں ڈوبا بھارت انٹرنیٹ بندش سے حقائق کو چھپانے میں مصروف ہے۔ عالمی ڈیجیٹل حقوق کی تنظیم ایکسز نا کی رپورٹ نے بھارتی نام نہاد جمہوریت کے دعوے کو عیاں کر دیا۔بھارتی جریدہ کے مطابق بھارت 2025میں 65مرتبہ انٹرنیٹ شٹ ڈان سے بدترین ممالک میں سرفہرست ہے ۔ گزشتہ سال میں بھارت میں کیا گیا انٹرنیٹ شٹ ڈان کسی بھی جمہوری ملک میں سب سے زیادہ ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں 2018میں 134اور2019میں 121مرتبہ انٹرنیٹ مکمل طور پر معطل کیا گیا۔ 12ریاستوں اور علاقوں میں بار بار اندرونی خلفشار، تشدد اور تنازعات پر انٹرنیٹ بند کیا گیا۔ بھارت اب بھی لوگوں کی آواز پر کنٹرول کو ترجیح دیتا ہے جو قطعا جمہوری اقدار نہیں ۔عالمی ماہرین کے مطابق تلخ حقائق کو چھپانے کے لیے بار بار انٹرنیٹ کی بندش بھارت میں بڑھتے اندرونی خلفشار کا واضح ثبوت ہے ۔ بی جے پی حکومت ہندوتوا کے انتہاپسند ایجنڈے کے تحت جاری ظلم و جبر کو چھپانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈیاختیار کر رہی ہے۔



