تیل کی قیمتیں گر گئیں

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی بڑی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے متعلق بڑھتی ہوئی توقعات قرار دی جا رہی ہیں۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 3.37 فیصد کمی کے بعد 87.33 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جو مارچ کے اوائل کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے، اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3.23 فیصد کمی کے ساتھ 84.88 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا، جو اپریل کے بعد کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس بات پر زیادہ پراعتماد ہو رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان خلیجی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MOU) جلد طے پا سکتی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اتوار تک دستخط ہو سکتا ہے جبکہ جنیوا ممکنہ مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر ابھی دستخط نہیں ہوئے اور مذاکرات کے دوران شرائط میں تبدیلی بھی ممکن ہے، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فضائی حملوں کا منصوبہ روک دیا ہے، جسے بھی کشیدگی میں کمی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو جاتی ہے اور تیل کی ترسیل معمول پر آ جاتی ہے تو عالمی منڈی میں قیمتوں پر مزید دبا پڑ سکتا ہے تاہم بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر جولائی کے آخر تک تیل کی سپلائی مکمل طور پر بحال نہ ہوئی تو بڑھتی ہوئی طلب کے باعث قیمتیں دوبارہ اوپر جا سکتی ہیں۔ادھر گولڈمین سیکس نے 2027 کے لیے برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت کا تخمینہ کم کرتے ہوئے 80 ڈالر فی بیرل مقرر کر دیا ہے، جبکہ اوپیک نے بھی 2026 کے لیے عالمی تیل طلب میں اضافے کی پیش گوئی کو کم کر دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں