تیل کی قیمتیں مزید گر گئیں

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں خاتمے اور امن معاہدے کی پیش رفت کے بعد ایشیائی تجارتی سیشن کے دوران خام تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی۔ امریکی خام تیل 80 ڈالر 20 سینٹ فی بیرل تک گر گیا، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 83 ڈالر 26 سینٹ فی بیرل تک آ گئی۔ اسی طرح اماراتی مربن خام تیل 83 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ کرتا رہا۔رپورٹس کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے پر آئندہ جمعہ سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں، جس کے بعد خطے میں استحکام کے امکانات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ممکنہ معاہدے سے مشرق وسطی میں جغرافیائی تنا میں کمی اور توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات کم ہوئے ہیں، جس کا براہِ راست اثر تیل کی قیمتوں پر پڑا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا بیان میں تیل کی ترسیل کے تسلسل کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کی نقل و حرکت متاثر نہیں ہوگی، جسے مارکیٹ نے مثبت اشارہ تصور کیا۔واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں شدید اتار چڑھا اور قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ تاہم حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد سرمایہ کاروں کے خدشات میں کمی اور قیمتوں میں نرمی کا رجحان سامنے آیا ہے۔ماہرین کے مطابق اگر معاہدہ باضابطہ طور پر نافذ ہو جاتا ہے اور آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں مکمل طور پر معمول پر آ جاتی ہیں تو آنے والے دنوں میں عالمی تیل مارکیٹ مزید استحکام کی طرف جا سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں