لاہور(بیورو چیف)پنجاب حکومت نے گندم کی مارکیٹ قیمت کے تعین اور خریداری کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا مقصد اوپن مارکیٹ میں سرکاری چھاپوں اور پکڑ دھکڑ کے عمل کو ختم کرنا ہے۔ محکمہ خوراک کے مطابق نئے نظام کے تحت ایگریگیٹرز اور الیکٹرانک ویئر ہائوس ریسیپٹ سسٹم کو بھی شامل کرنے پر غور جاری ہے۔محکمہ خوراک کے مطابق نئے نظا م کے تحت مارکیٹ میں گندم کی اوسط قیمت کو بنیاد بنا کر خریداری کی جائے گی۔اس نظام کے تحت وفاقی ادارہ شماریات یا صوبائی پرائس کونسل کی جانب سے گزشتہ 3ماہ کی اوسط قیمت کو خریداری قیمت تصور کیا جائے گا۔ نجی ٹریڈرز اور اسٹاکسٹ کو مقررہ منافع دے کر حکومت گندم خریدے گی، جسے بعد میں فلور ملز کو فراہم کیا جائے گا۔مجوزہ نظام میں رائس شیلرز، کاٹن جننگ فیکٹریاں، فلور مل مالکان اور آڑھتی سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز کو رجسٹریشن اور گندم کی ڈیکلریشن لازمی قرار دی جائے گی۔ محکمہ خوراک کو گندم خریدنے کا پہلا حق حاصل ہوگا جبکہ انکار کی صورت میں نجی مالکان اوپن مارکیٹ میں فروخت کے مجاز ہوں گے۔حکام کے مطابق اس نئے نظام سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ سرکاری تحویل میں موجود گندم کے ذخیرہ کرنے کی گنجائش بھی بہتر ہو جائے گی۔




