بیراجوں کی بحالی کا عمل جاری رکھا جائے گا، مراد علی شاہ

کراچی (بیورو چیف)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے بیراجوں کی بحالی کا عمل جاری رکھا جائے گا تاکہ سندھ سرسبز اور خوشحال رہے اور پاکستان کی معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتا رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس منصوبے کی پائیدار بنیادوں پر دیکھ بھال کی جائے گی تاکہ مستقبل میں کسی قسم کے نقصان سے بچا جا سکے اور انجینئرز، مزدوروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کی محنت ضائع نہ ہو۔ وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ کوٹری بیراج کی فزیبلٹی اسٹڈی کو مزید بہتر بنانے پر کام جاری ہے۔ انہوں نے سندھ کے بیراجی نظام کو ‘سندھ کی شہ رگ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکھر بیراج کی بحالی سے اس کی عملی عمر میں مزید 30 سال کا اضافہ متوقع ہے۔ پانی کی قلت سے متعلق سوالات کے جواب میں سید مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے تین روز قبل وزیراعظم کو سندھ کے تحفظات کے حوالے سے خط لکھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ دریائے سندھ کے نظام میں اس سال پانی کے بہاؤ کی صورتحال گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں بہتر ہے۔ انہوں نے کہا کہ 8 جون 2026ء تک دریاؤں میں پانی کی آمد 8 جون 2025ء کے مقابلے میں زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح دریائے کابل، دریائے جہلم، دریائے چناب اور منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 8 جون کو گڈو بیراج کے اوپری حصے میں پانی کا بہاؤ گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر تھا۔ انہوں نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے بھی سندھ کے پانی کے مسائل کے حوالے سے ارسا حکام سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی طور پر سندھ کے تحفظات کو تسلیم نہیں کیا گیا، تاہم بعد ازاں ارسا نے صوبے کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کو درست مان لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق سندھ میں پانی کی کمی ابتدا میں تقریباً 41 فیصد بتائی گئی تھی، جس کے بعد اضافی 20 ہزار کیوسک پانی چھوڑا گیا۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کو اب بھی ضرورت سے کم پانی مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس ذخائر میں بھی زیادہ پانی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض فیصلے ملک بھر کے آبپاشی منصوبوں کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لئے ان پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ حکومت نے ارسا سے روزانہ کی بنیاد پر پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور واضح کیا کہ وہ کسی پر الزام نہیں لگا رہے بلکہ طے شدہ طریقہ کار کے تحت سندھ کے جائز حصے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سکھرـحیدرآباد موٹروے منصوبے کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ صرف سندھ حکومت کا منصوبہ نہیں بلکہ قومی اہمیت کا حامل منصوبہ ہے، جس سے پورے ملک کو فائدہ پہنچے گا۔ بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھر بیراج ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ماڈرنائزیش پراجیکٹ کی یادگاری تختی کی نقاب کشائی کی۔ اس موقع پرایم این اے سید خورشید احمد شاہ، صوبائی وزیر ایریگیشن جام خان شورو، صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، ترجمان حکومت سندھ و میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ و دیگر افسران اور پارٹی رہنما بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں