عالمی مارکیٹ میں تیل مزید سستا

اسلام آباد (بیوروچیف) مشرقِ وسطی میں جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے عبوری معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔برینٹ خام تیل کی قیمت 4.21 ڈالر یا 5.1 فیصد کمی کے بعد 78.96 ڈالر فی بیرل ہوئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 4.70 ڈالر یا 5.8 فیصد گر کر 76.05 ڈالر فی بیرل پر آ گیا یہ برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی کی مارچ کے اوائل کے بعد کم ترین سطح ہے۔ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز جلد دوبارہ کھل جائے گی، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی بہتر ہونے کی توقع پیدا ہوئی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریبا 20 فیصد تیل سپلائی اسی اہم آبی گزرگاہ سے گزرتی تھی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا، جبکہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق معاہدے پر دستخط کے بعد ایران کو تیل فروخت کرنے کی اجازت بھی مل جائے گی۔ادھر عالمی سرمایہ کاری بینکوں، جن میں گولڈمین سیکس، مورگن اسٹینلے اور سٹی شامل ہیں نے بھی تیل کی قیمتوں کے حوالے سے اپنی پیش گوئیاں کم کر دی ہیں۔تیل کی قیمتوں پر دبائو ڈالنے والے دیگر عوامل میں چین کی سست روی کا شکار معیشت، بڑھتی ہوئی عالمی مہنگائی، بلند شرح سود اور روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی ممکنہ پیش رفت شامل ہیں۔چین میں مئی کے دوران خام تیل کی پراسیسنگ گزشتہ سال کے مقابلے میں 9.1 فیصد کم رہی، جو تقریبا چار سال کی کم ترین سطح ہے، دوسری جانب جاپان کے مرکزی بینک نے شرح سود بڑھا کر 31 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچا دی ہے۔پاکستان میں عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہونے کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا اور بعض تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتیں 420 روپے فی لیٹر تک جا پہنچی تھیں تاہم عالمی قیمتوں میں حالیہ کمی کے بعد اب ملک میں بھی عوام کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔توانائی کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 79 سے 80 ڈالر فی بیرل کے قریب برقرار رہتی ہیں اور روپے کی قدر میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آتی تو پیٹرول کی قیمت میں 30 سے 40 روپے فی لیٹر تک کمی کی گنجائش موجود ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 35 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی ہوسکتی ہے۔بعض ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت چاہے تو ٹیکسوں اور لیوی میں ردوبدل کے ذریعے عوام کو 50 روپے فی لیٹر تک کا ریلیف بھی دے سکتی ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ قیمتوں کے تعین کے لیے اوگرا اپنی سمری وزارتِ خزانہ کو ارسال کرے گا جس کے بعد وزیراعظم کی مشاورت سے جمعہ کی شب نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت مکمل ریلیف منتقل کرتی ہے تو آئندہ قیمتوں کے اعلان میں 30 سے 50 روپے فی لیٹر تک کمی کا امکان موجود ہے تاہم حتمی کمی کا انحصار اوگرا کی سفارشات، ڈالر کے نرخ، درآمدی لاگت اور حکومتی ٹیکس پالیسی پر ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں