شفقت اللہ مشتاق کی شاعری قاری کو محض الفاظ کا لطف نہیں دیتی بلکہ اسے احساس، تخیل اور فکر کی ایک ایسی دنیا میں لے جاتی ہے جہاں ہر شعر اپنے اندر ایک مکمل کہانی، ایک خاموش مکالمہ اور ایک گہرا جذبہ سموئے ہوئے محسوس ہوتا ہے۔ ان کے ہاں شاعرانہ تخیل حقیقت سے ہم آہنگ ہو کر ایک ایسا ادبی منظرنامہ تخلیق کرتا ہے جس میں درد بھی ہے، امید بھی، محبت بھی اور انسان دوستی کا پیغام بھی۔ عصرِ حاضر کے ان شعرا میں جو روحانیت، تخلیقِ خدا سے محبت اور انسانیت کے دکھ کو یکجا کر کے شعر کہتے ہیں، شفقت اللہ مشتاق کا نام نمایاں اور قابلِ ذکر مقام رکھتا ہے۔ان کے اشعار میں لفظ محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ جذبات کے چراغ ہیں، جو دل کے تاریک گوشوں کو منور کرتے ہیں۔ شاعر محبت کو ایک عارضی کیفیت نہیں بلکہ ایک ازلی و ابدی حقیقت کے طور پر پیش کرتا ہے، جو جفا، فاصلے اور وقت کی سختیوں کے باوجود اپنی تاثیر برقرار رکھتی ہے۔ یہ محبت محض انسان سے انسان کی محبت نہیں، بلکہ خالقِ کائنات کی تخلیق سے، اس کے ہر جلوے سے، ہر ذی روح سے محبت کا وہ روحانی شعور ہے جو شاعری کو عبادت کے قریب لے جاتا ہے۔ یہی تصور ان کی شاعری کو روحانی گہرائی اور باطنی وسعت عطا کرتا ہے، اور قاری کو ایک ایسی کیفیت میں مبتلا کرتا ہے جہاں محبت، عبادت اور تخیل ایک ہی نقطے پر جا کر مل جاتے ہیں۔شفقت اللہ مشتاق کے ہاں تخیل کی پرواز نہایت دلکش اور معنی خیز ہے۔ کمرے کے کونے میں سسکتی ہوئی شمع صرف ایک منظر نہیں بلکہ تنہائی، انتظار اور خاموش اذیت کی ایک بھرپور علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ اسی طرح چراغِ دل کو پوری کائنات کی روشنی سے جوڑ دینا ان کے فکری وژن اور استعاراتی حسن کی عمدہ مثال ہے۔ یہ استعارے محض زبان کی آرائش نہیں بلکہ تخلیقِ کائنات اور خالق و مخلوق کے باہمی تعلق پر ایک گہرا فلسفیانہ تبصرہ ہیں ایک شمع کا سسکنا گویا کائنات کی ہر مخلوق کے درد کی علامت بن جاتا ہے، اور دل کا چراغ کائناتی روشنی کا ایک قطرہ، جو ہر انسان کے باطن میں موجود اس نورِ ازلی کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے شاعر نے اپنے فن کی زبان میں ڈھال دیا ہے۔اسی فکری روایت کو وہ مزید آگے بڑھاتے ہیں جب صحرا میں اکیلا پھول جیسی تراکیب استعمال کرتے ہیں، جو امید اور استقامت کی ایک لازوال تصویر بن جاتی ہیں یہ پھول اس انسان کی علامت ہے جو حالات کی سختی اور تنہائی کے باوجود اپنے وجود کی خوشبو بکھیرنے سے باز نہیں آتا۔ اسی طرح شبنم کا قطرہ آفتاب کے سامنے جیسی تراکیب زندگی کی بے ثباتی اور خالق کی عظمت کے سامنے مخلوق کی عاجزی کو ایک نہایت لطیف اور حسین پیرائے میں بیان کرتی ہیں۔ یہ تصویریں ثابت کرتی ہیں کہ شاعر کا تخیل محض جمالیاتی نہیں بلکہ فکری اور روحانی بھی ہے۔ان کی شاعری کا ایک اہم اور نمایاں پہلو انسان دوستی اور معاشرتی شعور بھی ہے۔ وہ ان مجبور، محروم اور مظلوم انسانوں کی طرف توجہ دلاتے ہیں جو صبح و شام دکھ، بھوک، محرومی اور بے بسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ شاعر کے نزدیک ہر مظلوم اور بے کس انسان خود خالقِ کائنات کی تخلیق کا حصہ ہے، اور اس سے محبت اور ہمدردی دراصل خود خالق سے محبت کا اظہار ہے۔ یہ اشعار قاری کے دل میں صرف ہمدردی ہی نہیں بلکہ ذمہ داری کا احساس بھی بیدار کرتے ہیں یہ احساس کہ انسانیت کی خدمت اور مخلوقِ خدا کی دیکھ بھال، حقیقی روحانیت کا لازمی جزو ہے۔شفقت اللہ مشتاق کی زبان نہایت سادہ، رواں اور دل نشیں ہے۔ وہ مشکل الفاظ یا مصنوعی اظہار کے بجائے ایسی سادہ مگر موثر زبان استعمال کرتے ہیں جو براہِ راست دل میں اتر جاتی ہے۔ یہی خوبی ان کی شاعری کو عام قاری اور سنجیدہ ادب کے شائق، دونوں کے لیے یکساں پرکشش بناتی ہے۔ ان کے کلام میں سادگی، گہرائی کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ایک ایسا امتزاج پیدا کرتی ہے جو معاصر اردو شاعری میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے، اور انہیں موجودہ دور کے ان شاعروں کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے جو روایت اور جدت دونوں سے فیض یاب ہیں۔اگر تخیل کو ادب کی روح، احساس کو اس کا دل اور انسان دوستی کو اس کی منزل قرار دیا جائے تو شفقت اللہ مشتاق کی شاعری ان تینوں عناصر کا حسین امتزاج دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کلام قاری کو سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے باطن سے مکالمہ کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ان کے اشعار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ سچی شاعری صرف پڑھی نہیں جاتی، بلکہ محسوس کی جاتی ہے، جیتی جاتی ہے اور دلوں میں دیر تک اپنی خوشبو بکھیرتی رہتی ہے۔شفقت اللہ مشتاق کی شاعری دراصل محبت، تخیل، روحانیت، تخلیقِ خدا سے وابستگی، انسانی ہمدردی اور جمالیاتی احساسات کا ایسا خوبصورت سنگم ہے جو اردو ادب کی روایت میں اپنی منفرد شناخت قائم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ شاعری محض ایک دور کی نمائندہ نہیں بلکہ ان لازوال انسانی اقدار کی امین ہے جو ہر دور اور ہر زبان میں قاری کے دل کو چھو لیتی ہیں۔




