واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ایک بار پھر سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران نے امریکا یا اس کے مفادات پر حملہ کیا تو ہر حملے کے جواب میں 20گنا زیادہ طاقت سے کارروائی کی جائے گی۔ ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا ایران کے خلاف فوجی محاذ پر پہلے ہی کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب بہت کم وسائل بچے ہیں اور وہ معاہدہ کرنے کے لیے بے چین ہے، تاہم مجھے یقین نہیں کہ وہ معاہدے کی پاسداری کرے گا۔ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ اگر ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے تو پھر اس نے تجارتی جہازوں کو کیوں نشانہ بنایا جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ سچ پوچھیں تو وہ کچھ حد تک غیر متوازن ہیں، حالات ان کے قابو سے باہر دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ معاہدہ ضرور کرنا چاہتے ہیں۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ ہم نے انہیں بہت سخت جواب دیا ہے۔ اب اگر وہ ہر بار ہم پر حملہ کریں گے تو ہم اس کے جواب میں 20گنا زیادہ طاقت سے کارروائی کریں گے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا دوبارہ ایران میں مکمل فوجی تنازع کی طرف جا رہا ہے تو ٹرمپ نے کہا کہ میں اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا، ہمارے پاس کامیابی کے کئی راستے ہیں لیکن فوجی اعتبار سے ہم پہلے ہی کامیاب ہو چکے ہیں۔دریں ثناء ۔تہران (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جزیرہ خارگ پر حملے کی دھمکی پر ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کے ترجمان ابراہیم
رضائی سمیت دیگر نے بیان جاری کیا ہے۔ابراہیم رضائی نے کہا کہ آئو ہم تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل میں کہاکہ مہذب اور بہادر ایرانی قوم کے لیے توہین آمیز زبان استعمال کرنے سے ایرانی قوم کی عظمت کم نہیں ہوتی، ایران اپنی شائستگی، ثقافت اور مضبوط اخلاقی اقدار سے جانے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم بیہودگی کا جواب بیہودگی سے نہیں، بے خوفی، عظیم حوصلے اور عمل کیساتھ دیتے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے سینئر مشیر محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو سخت سزا دی جائے گی۔علاوہ ازیں ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت اعتماد کی نہیں وعدوں کی پاسداری کی بنیاد پر ہوئی تھی، امریکا آبنائے ہرمز میں مشکلات پیدا کر رہا ہے،ایران اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا۔




