غزہ (مانیٹرنگ ڈیسک) حماس کے سابق سربراہ اسماعیل ہنیہ کا بھتیجا بھی اسرائیل کے غزہ میں حملے میں شہید ہو گیا۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ غزہ میں کیے گئے ایک فضائی حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے ایک اہم کمانڈر ولید ہنیہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج ن کے ترجمان نے مزید بتایا کہ ولید ہنیہ حماس کی نخبا فورس کی ایک کمپنی کا نائب کمانڈر تھا اور اس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے دوران سرحد پار کارروائی کرنے والے جنگجوں کی قیادت کی تھی۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے بتایا کہ ولید ہنیہ نہ صرف حملہ آور گروپ کو آپریشنل ہدایات فراہم کر رہا تھا بلکہ وہ اسرائیلی شہریوں کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کرنے کی کارروائی میں ملوث تھا۔ حالیہ مہینوں میں ولید ہنیہ حماس کے لیے نئے جنگجو بھرتی کرنے، عسکری تنظیم نو اور نخبا فورس کے اہلکاروں کو فوجی تربیت دینے میں بھی سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔ اسرائیلی فورس نے ولید ہنیہ کی انھی سرگرمیوں کی بنیاد پر وہ ہمارا ایک اہم عسکری ہدف قرار دیا۔ ان کا تعاقب کیا جا رہا تھا اور آج انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اس جگہ حملہ کیا گیا جہاں ولید ہنیہ موجود تھا۔ اسرائیلی فوج نے حملے کی جگہ اور اس میں ہونے والے دیگر ممکنہ نقصان کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔حماس نے اسرائیلی دعوے کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔جس وقت حماس اور اسلامک جہاد کے کارکنوں نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل کے اندر گھس کر سینکڑوں افراد کو قتل کرنے کے بعد ڈھائی سو کے لگ بھگ مردوں اور عورتوں کو یرغمال بنا کر غزہ لے جانے کی کارروائی کی اس وقت حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ تھے۔ اسرائیل کی ائیر فورس نے اسمعیل ہنیہ کو گزشتہ برس ایران کے دارالحکومت تہران میں ایک حملے میں مارا تھا۔ اسرائیل کے کئی مہینوں تک اس حملے کی رسمی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوج کی بمباری مین اسمعیل ہنیہ کی پوتی ماری گئی تھی جو میڈیکل کی سٹوڈنٹ تھی۔ اسمعیل ہنیہ کے کئی دوسرے قریبی عزیز بھی اسرائیلی فوج کے حملوں میں مارے جا چکے ہیں۔




