بجٹ میں کون سی اشیا سستی ہونے کا امکان؟

اسلام آباد (بیوروچیف) حکومت مالی سال 2026-27کا بجٹ پانچ جون کو پیش کرنے جا رہی ہے جس میں عوام اور کاروباری طبقے کے لیے کئی اہم ریلیف اقدامات متوقع ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت آئی ایم ایف کے اہداف اور نئی نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت درآمدی اشیا پر عائد مختلف ڈیوٹیز اور ٹیکسوں میں کمی پر غور کر رہی ہے جس کے نتیجے میں متعدد مصنوعات سستی ہو سکتی ہیں۔ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں 3 ہزار 149 سے زائد ٹیرف لائنز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کی جا سکتی ہے جبکہ 1900 سے زائد ٹیرف لائنز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم ہونے کا امکان ہے۔ اس اقدام کا مقصد درآمدی خام مال اور صنعتی مصنوعات کی لاگت کم کرنا اور مقامی صنعت کو عالمی مقابلے کے قابل بنانا ہے۔بجٹ سے قبل موبائل فون صارفین کی نظریں حکومت کے ممکنہ فیصلوں پر مرکوز ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حکومت موبائل فونز پر عائد ٹیکسوں کو 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو 500 ڈالر سے زائد قیمت والے پریمیم اور فلیگ شپ اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ اس صورت میں آئی فون، سام سنگ گلیکسی ایس سیریز اور دیگر مہنگے اسمارٹ فونز نسبتا سستے ہو سکتے ہیں۔تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت پریمیم درآمدی فونز پر موجودہ پی ٹی اے ٹیکس ڈھانچہ برقرار رکھنے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو صارفین کو کسی بڑے ریلیف کی توقع نہیں رکھنی چاہیے اور فلیگ شپ فونز کی قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رہ سکتی ہیں۔بجٹ میں درآمدی گاڑیوں پر عائد ڈیوٹیوں میں کمی کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی جاتی ہے تو استعمال شدہ اور نئی درآمدی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے۔اس کے علاوہ الیکٹرک گاڑیوں اور الیکٹرک بائیکس کے پلانٹس لگانے کے لیے درآمد کی جانے والی مشینری اور آلات پر بھی اضافی کسٹم ڈیوٹی کم کیے جانے کا امکان ہے جس سے مستقبل میں الیکٹرک ٹرانسپورٹ مزید سستی ہو سکتی ہے۔حکومت زراعت سے وابستہ درآمدی خام مال، زرعی آلات، مشینری اور پرزہ جات خصوصا وہ مصنوعات جو پاکستان میں تیار نہیں ہوتیں پر بھی ٹیکس کم کرنے پر غور کر رہی ہے۔اس فیصلے سے کسانوں کی پیداواری لاگت کم ہونے اور زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔بجٹ میں برآمدی صنعت کے لیے استعمال ہونے والے سیکڑوں خام مال اور صنعتی اشیا پر ٹیرف کم کیے جانے کا امکان ہے۔ صنعتکاروں کے مطابق اس اقدام سے پیداواری لاگت کم ہوگی، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بن سکیں گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر میں 5 جی سروسز کے آغاز کی تیاریوں کے لیے درآمد کی جانے والی مشینری اور آلات پر بھی ٹیکسوں میں کمی کی جا سکتی ہے۔اس اقدام سے ٹیلی کام کمپنیوں کی سرمایہ کاری کی لاگت کم ہوگی اور ملک میں جدید موبائل نیٹ ورک کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ یہ تمام تجاویز ابھی زیر غور ہیں اور ان پر حتمی فیصلہ وفاقی بجٹ 2026-27 کی منظوری کے بعد سامنے آئے گا۔عوام، صنعتکاروں اور کاروباری حلقوں کی نظریں اب 5 جون کو پیش کیے جانے والے بجٹ پر مرکوز ہیں جہاں یہ واضح ہوگا کہ کن شعبوں کو ریلیف ملتا ہے اور کن اشیا کی قیمتوں میں واقعی کمی آتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں