بچوں کے استحصال کی نشاندہی کیلئے AIسسٹم تیار

اسلام آباد(بیورو چیف)دنیا بھر میں بچوں کے نگہداشت کے مراکز، ڈے کیئرز اور اسکولوں میں ہونیوالے زیادتی کے واقعات، والدین اور پیشہ ور افراد کے لیے نہایت پریشانی اور تشویش کا باعث ہیں۔ روایتی نگرانی کے نظام اکثر ناکافی ثابت ہوتے ہیں اور بچوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے میں قاصر رہتے ہیں۔ بیشتر کیسز رپورٹ ہی نہیں کیے جاتے یا سالوں بعد سامنے آتے ہیں، لیکن حال ہی میں اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ایک جدید سسٹم تیار کیا گیا ہے جو ایک انقلابی ایجاد ہے۔ہانگ کانگ کی 17 سالہ طالبہ چا سزی لوک اور ان کی ٹیم نے بچوں کی حفاظت کے لیے اے آئی کی مدد سے ایک جدید سسٹم متعارف کرایا ہے جس کا نام کڈ ایڈ (KidAID) ہے۔ یہ سسٹم بچوں کے ڈے کیئر اور اسکولوں میں ہونے والے تشدد کی شناخت کر سکتا ہے۔کڈ ایڈ والدین اور نگہداشت کے پیشہ ور افراد کے لیے امید کی کرن بن گیا ہے۔ یہ سسٹم سی سی ٹی وی فوٹیج اور جسمانی حرکات کا تجزیہ کر کے مشکوک رویوں کو بروقت شناخت کرتا ہے، جس سے بچوں کو مثر حفاظتی اقدامات کے ذریعے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ اس طرح، یہ ٹیکنالوجی بچوں کے تحفظ میں ایک قابل اعتماد اور جدید حل کے طور پر سامنے آئی ہے۔دنیا بھر میں لوگ اس سسٹم میں دلچسپی لے رہے ہیں تاکہ بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔کڈ ایڈ سسٹم کو چا اور اس کی اسکول ٹیم نے سینٹ میری کینوسین کالج کے طلبہ کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔ یہ سسٹم نہ صرف ویڈیو اور آڈیو ریکارڈنگ کرتا ہے بلکہ اس میں پوشیدہ اور چھپے ہوئے اشاروں کو بھی سمجھنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جیسے کہ بچوں کا الگ تھلگ ہونا، خوفزدہ لہجہ، غیر آرام دہ جسمانی حرکات یا اچانک جھٹکے لینا یا بچے کو پکڑ کر جھنجھوڑنا جیسے معاملات کی نشاندہی۔ یہ انسانوں کے مقابلے میں بہت زیادہ حساس ہے اور خطرناک رویے کی صورت میں فوری طور پر نگرانی کرنے والے عملے کو اطلاع بھیج دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں