اسلام آباد (بیورو چیف)وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ گزشتہ مالی سال کی پہلی 3سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح مسلسل گر رہی تھی، ایران امریکہ جنگ و تیل قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی کی لہر آئی، امید ہے تیل کی قیمتیں آئندہ 3سے 6ماہ میں معمول پر اور مہنگائی میں کمی آئی گی۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ آخری سہ ماہی میں ایران امریکا جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جنگ کی وجہ سے صرف پاکستان نہیں دنیا بھر میں مہنگائی کی لہر آئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران امریکا جنگ کے مسئلہ کے حل کیلئے بہت متحرک کردار ادا کیا، امریکا ایران تنازع میں امن کا سہرا پاکستان کے سر سجا ہے، امید ہے تیل کی قیمتیں آئندہ 3سے 6ماہ میں معمول پر اور مہنگائی میں کمی آئی گی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ جی ڈی پی کے حساب سے 2013ء سے 2018ء تک 1.6 سے لے کر 2.6فیصد تک بڑھ گیا، 2018میں باجوہ اور ثاقب نثار نے پاکستانی معیشت پر اسکڈ میزائل چلایا۔ احسن اقبال نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صورت میں ایک نااہل اور نا تجربہ کار شخص کو لا کر اقتدار میں بٹھایا گیا، 2018 کے بعد پاکستان مسلسل معاشی مشکلات کا شکار رہا۔ انہوں نے کہا یکم اپریل 2022ء کو وزارت خزانہ نے آخری سہ ماہی کیلئے بجٹ جاری کرنے سے انکار کر دیا تھا، وفاقی حکومت کے نیٹ ریوینیو میں سے 74فیصد قرضوں کی ادائیگی میں جاتا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں فسکل سپیس کم ہے اس لئے مزید وسائل تلاش کرنے ہوتے ہیں، دفاعی ضروریات سے کسی صورت غفلت نہیں کر سکتے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ صوبوں نے انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور پاکستانی قوم کے چیلنجز کو سمجھا ہے، دفاعی اور آبی سیکیورٹی کے معاملات میں وفاق کے ساتھ تعاون پر صوبوں کے شکر گزار ہیں۔




