اسلام آباد (بیوروچیف) حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے2ادوار کے باوجود سیاسی ڈیڈلاک ختم نہ ہو سکا، تاہم، حکومتی رہنمائوں کی جانب سے مذاکرات کے دروازے کھلے ہونے کے بیانات اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے بامقصد بات چیت کی حمایت کے بعد ایک بار پھر مذاکرات کی بحالی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اور اپوزیشن ماضی کی تلخیوں کو پسِ پشت ڈال کر دوبارہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ سکیں گی یا دہشتگردی کے خلاف حکمتِ عملی، خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون اور ملاقات کے طریق کار پر اختلافات ایک بار پھر آڑے آئیں گے؟وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کے دروازے اب بھی کھلے رکھے ہیں اور اگر اپوزیشن بامقصد مذاکرات کے لیے آگے بڑھتی ہے تو حکومت بھی بات چیت کے لیے تیار ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ کوئی ملاقات نہیں ہوئی، تاہم اگر مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات محض فوٹو سیشن یا رسمی پیشکشوں تک محدود نہیں ہونے چاہییں، بلکہ ان کے ساتھ عملی اقدامات بھی ہونے چاہئیں۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشتگردی کے خلاف اقدامات اور خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون کا معاملہ رہا ہے، مذاکرات کے دوسرے دور کے حوالے سے ابتدا میں یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ بات چیت میں پیشرفت ہوئی ہے اور کسی معاہدے پر اتفاق ہو گیا ہے۔تاہم بعد ازاں اختلافات سامنے آنے پر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔ اس ضمن میں سہیل آفریدی کے موقف اور دہشتگردی کے خلاف وفاقی حکومت سے تعاون کے معاملے پر اختلافات کو بھی مذاکراتی عمل میں تعطل کی ایک وجہ قرار دیا گیا۔ماضی میں بھی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا ایک دور ہو چکا تھا، تاہم وہ بھی کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکا، دوسرے دور کے بعد بھی دونوں فریق اپنے اپنے مقف پر قائم رہے اور سیاسی کشیدگی برقرار رہی۔یوں مذاکرات کے 2 ادوار کے باوجود نہ تو سیاسی اختلافات ختم ہو سکے اور نہ ہی اعتماد سازی کے لیے کوئی ایسا مستقل طریق کار سامنے آ سکا جس سے بات چیت کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔موجودہ صورتِ حال میں حکومتی بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات کی بحالی کے دروازے بند نہیں کیے گئے، جبکہ پی ٹی آئی قیادت بھی اصولی طور پر بامقصد مذاکرات کی حمایت کر رہی ہے۔ تاہم، مذاکرات کی عملی بحالی کے لیے ضروری ہوگا کہ دونوں فریق ملاقات کے مقام، مذاکراتی نمائندوں، ایجنڈے اور دہشتگردی کے خلاف تعاون جیسے معاملات پر کوئی قابلِ قبول راستہ نکالیں۔




