دنیا کی تیسری بڑی اقتصادی قوت کی اصل کہانی

گزشتہ چند روز سے بھارتی میڈیا شور مچاتا نہیں تھک رہا کہ بھارت دنیا کی تیسری بڑی طاقت بن گیا ہے اور یہ سچ بھی ہے یہ کامیابی مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی بنیاد پر ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ تاہم، یہ متاثر کن ترقی یہ سوالات اٹھاتی ہے کہ اس کا عام آدمی پر کیا اثر ہوگا، خاص طور پر غربت میں کمی اور زندگی کے معیار کے حوالے سے۔، بھارت میں تقریبا 25 کروڑ لوگ غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، جس کی تعریف ان لوگوں کے طور پر کی جاتی ہے جو روزانہ 1.90 ڈالر سے کم کماتے ہیںاور اس ہی طرح تقریبا 75 آبادی بمشکل ضروریاتِ زندگی پوری کر رہی۔ یہ حقیقت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ جی ڈی پی کی ترقی کے باوجود، آبادی کا ایک بڑا حصہ اقتصادی طور پر کمزور ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، جبکہ معیشت ترقی کر رہی ہے، آمدنی کی عدم مساوات برقرار ہے، اور ترقی کے فوائد ہمیشہ کمزور طبقات تک نہیں پہنچتے۔بھارت میں غربت کی صورت حال مزید پیچیدگیوں کا شکار ہے، جیسے:غذائیت کی کمی: بھارت میں بچوں کی ایک بڑی تعداد غذائیت کی کمی کا شکار ہے، جو ان کی نشونما اور صحت پر منفی اثر ڈالتیی ہے۔بنیادی خدمات تک رسائی: زیادہ تر مفلس کمیونٹیز پینے کے صاف پانی، صحت کی دیکھ بھال، اور تعلیم تک رسائی سے محروم ہیں، جو غربت کے چکر کو جاری رکھتا ہے۔دیہی غربت: دیہی علاقوں میں غربت کی سطح زیادہ ہے، جہاں ملازمت کے مواقع محدود ہیں اور زراعت پر انحصار کیا جاتا ہے۔جی ڈی پی ایک ملک کی اقتصادی صحت کا اہم اشارہ ہے، لیکن یہ شہریوں کی بھلائی کی عکاسی نہیں کرتا۔ جی ڈی پی پر انحصار کرنا کامیابی کا ایک منحرف پیمانہ ہے؛ یہ اکثر بڑی کمپنیوں اور چند منتخب افراد کی دولت کی جمع آوری کو فروغ دیتا ہے، جبکہ عام لوگوں کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر، بھارت کی اقتصادی ترقی نے زیادہ تر امیر طبقے اور بڑے سرمایہ داروں کو فائدہ پہنچایا ہے، جو بڑی مقدار میں دولت اور وسائل کنٹرول کرتے ہیں۔فی کس آمدنی کی اہمیت ہے کہ یہ ہر شہری کی اوسط آمدنی کا اندازہ لگاتی ہے، انفرادی خوشحالی کی ایک واضح تصویر پیش کرتی ہے۔ یہ ایک اہم میٹرک ہے جس سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ اقتصادی ترقی کس طرح زندگی کے معیار میں بہتری لاتی ہے۔
1۔ زندگی کے معیار کی عکاسی: فی کس آمدنی یہ بتاتی ہے کہ افراد کے پاس بچت، اور سرمایہ کاری کے لیے کتنی آمدنی دستیاب ہے، جو براہ راست ان کی زندگی کے معیار پر اثر انداز ہوتی ہے۔
2۔ انصافی پیمائش: یہ شہریوں کے درمیان دولت کی تقسیم پر زور دیتی ہے۔ ایک ملک جس میں کل جی ڈی پی زیادہ ہو لیکن فی کس آمدنی کم ہو، یہ بڑی عدم مساوات کی علامت ہو سکتی ہے، جہاں پیدا کردہ دولت کا ایک چھوٹے فیصد کے پاس کنٹرول ہوتا ہے۔
3۔سماجی ترقی کی بصیرت: زیادہ فی کس آمدنی بہتر صحت کی دیکھ بھال، تعلیم، اور سماجی بہبود تک بہتر رسائی کا باعث بنتی ہے، جو پالیسی سازوں کے لیے سماج کی ضروریات کو موثر انداز میں پورا کرنے کا اشارہ فراہم کرتی ہے۔
کچھ ممالک ایسے ہیں جوبھارت سے کم جی ڈی پی کے باوجود بہتر زندگی کی سطح پیش کرتے ہیں، جیسے:
1۔بھوٹان: بھارت کے مقابلے میں چھوٹے جی ڈی پی کے ساتھ، بھوٹان نے اقتصادی ترقی کے بجائے مجموعی قومی خوشی (جی این ایچ)پر زور دیا ہے۔ اس کی فلاح و بہبود پر توجہ نے اس کے شہریوں کے لیے اعلی زندگی کے معیار کو ممکن بنایا ہے، جس میں کم غربت کی شرح اور مضبوط کمیونٹی کی فلاح و بہبود شامل ہے۔
2۔نیپال: بھارت کے مقابلے میں کم جی ڈی پی کے باوجود، نیپال میں زیادہ فی کس آمدنی کے ساتھ ساتھ بہتر تعلیم اور صحت کی خدمات تک رسائی موجود ہیاس کے سماجی پروگرام جو غربت میں کمی کے مقصد کے تحت ہیں، نے اس کی آبادی کی زندگی کے حالات کو بہتر بنایا ہے۔ ملک کی سماجی بہبود اور پائیدار ترقی پر زور دینے سے اس کے شہریوں کے لیے زندگی کا بہتر معیار فراہم ہوتا ہے۔بھارت کی جی ڈی پی کی ترقی کے گرد خوش امیدی کا بیانیہ ممکنہ طور پر گہرے سماجی مسائل کو چھپاتا ہے۔ اقتصادی ترقی کا اندازہ عام شہری کی زندگی پر اثر انداز ہونے کے لحاظ سے لگایا جانا چاہیے۔ بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور بڑہتی ہوئی غربت کے درمیان تعلق پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اعلیٰ جی ڈی پی کی ترقی کی شرحیں آمدنی کی مساوی تقسیم میں نہیں بدلی ہیں، اور نہ ہی انہوں نے اقتصادی نچلے حصے میں موجود افراد کو خاطر خواہ طور پر اوپر اٹھایا ہے۔بھارت کا تیسرے بڑے اقتصادی ملک کے طور پر حصول قابل تحسین ہے، مگر اس کے ساتھ یہ ذمہ داری آتی ہے کہ اس ترقی کو تمام شہریوں، خاص طور پر کمزور طبقات کے لیے ٹھوس فوائد ثابت ہوں۔ پالیسی سازوں کو جی ڈی پی کی حیثیت کو کامیابی کے واحد اشارے کی حیثیت سے نہیں سمجھنا چاہیے اور ایسی حکمت عملیوں کی کوشش کرنی چاہیے جو فی کس آمدنی کو بڑھائیں اور غربت کے اہم مسئلے کو حل کریں۔ صرف اسی صورت میں بھارت ایک ایسا مستقبل حاصل کر سکتا ہے جہاں اقتصادی ترقی ہر شہری کے زندگی کے معیار کو براہ راست بہتر بناسکے۔ جبکہ ابھی کی بھارتی پالیسیاں محض بڑے مالی طاقتوروں کے مفادات کی خدمت کررہی ہیں اور ایک عام بھارتی کو دو وقت کی روٹی کی خاطر اں سرمایا کاروں کا غلام بنائے ہوے ہے۔ یہ ہے بھارت کی اقتصادی ترقی کی اصل کہانی یا یوں کہیں بھارتی سرمایہ داروں کی ترقی کی کہانی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں