ذہنی صحت بہتر بنانے کے طریقے

کراچی ( بیو رو چیف )ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے نہ مہنگے علاج درکار ہیں اور نہ ہی کوئی پیچیدہ ٹرینڈز، روزمرہ کی چند سادہ سائنسی طور پر ثابت شدہ عادتیں آپ کی ذہنی کیفیت، موڈ اور مجموعی صحت میں حیرت انگیز بہتری لاسکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ 7 قدرتی طریقے بے چینی کم کرنے، خوشی بڑھانے اور ذہنی سکون فراہم کرنے میں انتہائی مددگار ہیں۔ماہرین اب بھی اس بحث میں ہیں کہ آیا سوشل میڈیا ذہنی صحت کو براہ راست نقصان پہنچاتا ہے یا نہیں، لیکن یہ واضح ہے کہ اس کا بے تحاشا استعمال موڈ کو متاثر کرتا ہے، بہتر ہے کہ آپ سوشل میڈیا سے وقفے لیں اور خود پر نظر رکھیں کہ یہ آپ کو جذباتی طور پر کیسے متاثر کرتا ہے۔آہستہ اور گہری سانس لینا ہمارے اعصابی نظام کو پرسکون کرتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن کم ہوتی ہے اور بے چینی میں کمی آتی ہے۔ماہرین 4-2-4 تکنیک (4 سیکنڈ سانس لیں، 2 سیکنڈ روکیں، 4 سیکنڈ باہر چھوڑیں)کو اسٹریس کم کرنے کا مثر طریقہ قرار دیتے ہیں۔تحقیقات کے مطابق صحت مند گٹ یا آنتوں کا نظام ذہنی صحت پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔پری بایوٹکس اور پروبایوٹکس ناصرف ہاضمہ بہتر کرتے ہیں بلکہ ذہنی دبا کم کرنے میں بھی مددگار ہیں، کیونکہ گٹ اور دماغ کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔یوگا ذہنی سکون، بے چینی میں کمی اور ڈپریشن کی علامات کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ایک تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ یوگا جنرلائزڈ اینگزائٹی ڈس آرڈر (GAD) یعنی مسلسل بے چینی کے علاج میں بھی مثر کردار ادا کرسکتا ہے۔ہفتے میں دو سے تین بار باغبانی کرنے سے سٹریس کم ہوتا ہے اور ذہنی سکون بڑھتا ہے، پودوں اور مٹی کے ساتھ گزرے چند منٹ بھی موڈ بہتر کرسکتے ہیں۔پتے دار سبزیاں، مچھلی، گریاں، تخمیر شدہ غذائیں اور ڈارک چاکلیٹ دماغی اور جسمانی صحت کے لیے بہترین ہیں۔یہ غذائیں سوزش کم کرتی ہیں، توانائی بڑھاتی ہیں اور گٹ کو مضبوط کرتی ہیں جس کا اثر براہ راست ذہنی صحت پر پڑتا ہے۔انتہائی پروسیسڈ کھانے (UPFs) جسم اور دماغ دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ان میں ضروری غذائی اجزا کی کمی ہوتی ہے اور یہ دماغی صحت کو متاثر کرتے ہیں، اس لیے انہیں کم کرنا ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں