ریت مٹی ترپال کے بغیر لیکر جانیوالی ٹرالیوں سے کمالیہ کے شہری پریشان

کمالیہ(نامہ نگار)شہر اور نواحی علاقوں میں ریت اور مٹی لے جانے والی ٹرالیوں پر ترپال نہ ڈالنے کی وجہ سے اڑتی ہوئی گرد و غبار شہریوں کے لیے وبال جان بن گئی ہے ۔ مٹی اور ریت کے ذرات فضا میں پھیلنے سے سانس، آنکھوں اور جلد کی بیماریوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے ، جب کہ حکام کی جانب سے اس سنگین مسئلے پر کوئی مثر کارروائی تاحال عمل میں نہیں آئی۔تفصیلات کے مطابق کمالیہ میں زیر تعمیر سڑکوں، عمارتوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے روزانہ کی بنیاد پر ریت اور مٹی کی ٹرالیاں شہر میں داخل ہوتی ہیں۔ لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ان ٹرالیوں پر مٹی اور ریت کو ڈھانپنے کے لیے حفاظتی ترپال کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ نتیجتا، تیز ہوا کے ساتھ یہ مٹی اور ریت سڑکوں اور بازاروں میں اڑتی ہے ، جس سے شہریوں کی معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔شہریوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر چلتے وقت دھول اور مٹی کے طوفان میں سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے ، جس کے باعث بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کی حالت مزید بگڑ رہی ہے ۔مقامی تاجر برادری بھی شکایت کر رہی ہے کہ مٹی اڑنے سے ان کے سامان پر گرد جم جاتی ہے ، جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے ۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ بار بار صفائی کرنے کے باوجود مٹی کا مسئلہ کم نہیں ہو رہا۔عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر کارروائی کرے اور ریت و مٹی کی ٹرالیاں بغیر ترپال کے شہر میں داخل ہونے پر پابندی عائد کرے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں