اسلام آباد (بیوروچیف) ملک کا اربوں ڈالر مالیت کا ریکو ڈک کاپر اور گولڈ مائننگ منصوبہ آنیوالے 37سال میں بلوچستان کو تقریبا $26 ارب کا معاشی فائدہ دے گا، جبکہ وفاقی حکومت کو $11 ارب اور پاکستانی کمپنیوں کو $15 ارب حاصل ہونے کا امکان ہے۔ یہ بریفنگ جی ایچ پی کے منیجنگ ڈائریکٹر مسعود نبی نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پٹرولیم کو دی۔مسعود نبی کے مطابق یہ تخمینے موجودہ متوقع آپریشنل لائف کے مطابق ہیں، تاہم ریکو ڈک کی کارکردگی اور ذخائر کے مطابق منصوبے کی مدت بڑھ بھی سکتی ہے، جس سے معاشی ثمرات مزید بڑھ جائیں گے۔پٹرولیم ڈویژن کے سیکریٹری نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ $7.7ارب کے اس منصوبے کے لیے فنانسنگ تقریبا مکمل ہوچکی ہے، جبکہ $2.5 ارب کا بندوبست کرلیا گیا ہے۔ اب تک 20فیصد زمینی کام مکمل ہو چکا ہے اور پہلے مرحلے کی پیداوار 2028کے آخر تک شروع ہونے کی توقع ہے۔




