واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی سطح پر امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کاررو ائیوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ شدید اتار چڑھا کا شکار رہی۔ سرمایہ کاروں کی جانب سے محتاط حکمت عملی اختیار کیے جانے کے نتیجے میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں نمایاں تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت 150 ڈالر سے زائد کمی کے بعد تقریبا 4 ہزار 185 ڈالر کی سطح تک گر گئی، جبکہ چاندی کی قیمت بھی 3 ڈالر 86 سینٹ کی کمی کے ساتھ 64 ڈالر 62 سینٹ فی اونس پر آ گئی۔ اس سے قبل گزشتہ کاروباری روز عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 28 ڈالر 29 سینٹ اضافے کے بعد 4 ہزار 326 ڈالر 27 سینٹ فی اونس تک پہنچ گئی تھی تاہم بعد ازاں مارکیٹ میں فروخت کے دبا اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کے باعث قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی جانب سے محفوظ سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی کے باعث سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھائو جاری ہے۔




