فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ضلعی انتظامیہ نے لیز ختم ہونے پر قیام پاکستان سے قبل قائم منروا کلب پر قبضہ کر کے مسمار کرنا شروع کر دیا۔ منروا کلب کے گرد ونواح میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹایا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق شہر کے وسط میں واقع 1935ء سے قائم منروا کلب کی لیز کچھ عرصہ قبل ختم ہو گئی تھی اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے منروا کلب کی انتظامیہ کو نوٹسز جاری کئے گئے تو منروا کلب کی انتظامیہ نے عدالت سے حکم امتناعی حاصل کر رکھا تھا۔ گزشتہ روز عدالت سے حکم امتناعی خارج ہونے پر ضلعی انتظامیہ نے پولیس’ پیرافورس’ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کیساتھ مل کر منروا کلب کا کنٹرول سنبھال لیا اور میونسپل کارپوریشن فیصل آباد انکروچمنٹ کی بھاری مشینری’ پیرافورس اور ضلعی پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ منروا کلب کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔ منروا کلب 28کنال سرکاری اراضی پر قائم ہے اور اسکی مالیت 40 ارب سے زائد بتائی جاتی ہے۔ منروا کلب کے 500 سے زائد ممبران ہیں جن میں سیاستدان’ صنعتکار’ تاجروں سمیت عمائدین شہر شامل ہیں اور سابق وفاقی وزیر داخلہ میاں زاہد سرفراز کافی عرصے سے منروا کلب کے صدر چلے آ رہے ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر سٹی عادل عمر کا کہنا ہے کہ منروا کلب کی لیز ختم ہونے پر کارروائی کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر ضلعی انتظامیہ نے منروا کلب پر قبضہ کر لیا تھا تو اس کو فوری طور پر مسمار کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ یہ کسی پرائیویٹ شخص کی ملکیت تو نہیں تھا۔ منروا کلب پر قبضہ کرنے کے بعد فوری طور مسمار کرنے پر ضلعی انتظامیہ کے خلاف سوالیہ نشان ہیں۔




