عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ پیش رفت نے عالمی توانائی مارکیٹ میں نئی توقعات کو جنم دے دیا، جس کے اثرات تیل کی قیمتوں پر فوری طور پر سامنے آنے لگے ہیں۔عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ریکارڈ کیا گیا ہے۔ برطانوی خام تیل کی قیمت تقریبا 3 فیصد کم ہونے کے بعد 87 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جبکہ امریکی خام تیل بھی 3 فیصد کمی کے ساتھ 85 ڈالر فی بیرل پر فروخت ہونے لگا۔سرمایہ کاروں کی جانب سے رسد میں بہتری کی امید کے باعث خام تیل کی عالمی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال یونہی رہی تو پاکستان میں پٹرول مزید سستا ہونے کے امکانات میں ۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات کے مربن کروڈ آئل کی قیمت میں زیادہ کمی دیکھی گئی اور یہ 5 فیصد سستا ہونے کے بعد 83 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔معاشی ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں نقل و حمل معمول پر آتی ہے اور رسد میں بہتری برقرار رہتی ہے تو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی کا امکان موجود ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 3.37 فیصد کمی کے بعد 87.33 ڈالر فی بیرل پر آ گئی تھی، جو مارچ کے اوائل کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے، اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3.23 فیصد کمی کے ساتھ 84.88 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا تھا، جو اپریل کے بعد کم ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔مزید برآں، ماہرین کے مطابق سرمایہ کار اس بات پر زیادہ پراعتماد ہو رہے ہیں کہ امریکہ اور ایران کے درمیان خلیجی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت (MOU) جلد طے پا سکتی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ اتوار تک دستخط ہو سکتا ہے جبکہ جنیوا ممکنہ مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر ابھی دستخط نہیں ہوئے اور مذاکرات کے دوران شرائط میں تبدیلی بھی ممکن ہے، دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فضائی حملوں کا منصوبہ روک دیا ہے، جسے بھی کشیدگی میں کمی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں