فضائی حدود بندش’ بھارتی ایئرلائنز مشکل میں پھنس گئیں

اسلام آباد (بیوروچیف) پاکستان کی جانب سے بھارتی طیاروں پر اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی پابندی کے بعد اب مشرقِ وسطی کی کشیدہ صورت حال نے بھارتی ایئرلائنز کی بین الاقوامی پروازیں شدید متاثر ہورہی ہیں۔خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق مشرقِ وسطی میں جنگ کے باعث فضائی حدود پر نئی پابندیوں اور پروازوں کے متبادل راستوں کی ضرورت نے بھارتی ایئرلائنز کے لیے مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔فضائی تجزیاتی ادارے سیریم کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز ایئر انڈیا اور انڈیگو نے گزشتہ 10 دنوں کے دوران مشرقِ وسطی، یورپ اور شمالی امریکا کے لیے طے شدہ 1230 پروازوں میں سے 64 فیصد پروازیں آپریٹ ہی نہیں کیں۔یاد رہے کہ پاکستان نے گزشتہ سال اپریل میں دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے بعد بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی۔دوسری جانب بینکنگ ادارے ایچ ایس بی سی نے گزشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ مشرقِ وسطی میں موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی بھارتی ایئرلائنز کی لاگت اور منافع پر نمایاں بوجھ ڈالے گی۔ادارے نے ایک اندازے کے مطابق بتایا تھا کہ متاثرہ ملکوں کے لیے صرف سات دن کی پروازوں کی منسوخی بھارتی ایئرلائنز کے سالانہ قبل از ٹیکس منافع کے تخمینے میں تقریبا 1.2 فیصد کمی کا باعث بن سکتی ہے۔اگرچہ حالیہ دنوں میں کچھ پروازیں بحال کی گئی ہیں، تاہم انڈیگو کو خاص طور پر منفرد مشکلات کا سامنا ہے۔ کمپنی یورپ کے لیے اپنی پروازوں میں نارویجن ایئرلائن نورس اٹلانٹک ایئرویز سے لیز پر حاصل کیے گئے چھ بوئنگ طویل فاصلے کے طیاروں پر انحصار کرتی ہے۔چونکہ ان طیاروں کی رجسٹریشن ناروے میں ہے، اس لیے انہیں یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی کی ہدایات پر عمل کرنا پڑتا ہے، جس میں ایران، عراق، اسرائیل، کویت، لبنان، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی فضائی حدود سے گریز کا مشورہ دیا گیا ہے۔اس صورت حال نے انڈیگو کو افریقہ کے راستے طویل متبادل روٹس اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث بعض پروازوں کا دورانیہ دو گھنٹے تک بڑھ گیا ہے۔ایک واقعے میں دہلی سے مانچسٹر جانے والی انڈیگو کی پرواز کو اتوار کے روز 13 گھنٹے فضا میں رہنے کے بعد واپس دہلی آنا پڑا کیونکہ افریقی ملک اریٹیریا کے ایئر ٹریفک کنٹرول نے فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔اسی طرح لندن سے ممبئی جانے والی انڈیگو کی ایک اور پرواز کو بھی اسی مسئلے کے باعث پیر کے روز قاہرہ کی جانب موڑنا پڑا۔ادھر مشرقِ وسطی کی جنگ کے باعث پروازوں میں رکاوٹیں انڈیگو کے لیے اس وقت مزید مشکلات پیدا کر رہی ہیں جب کمپنی کے چیف ایگزیکٹو پیٹر ایلبرز نے منگل کو اپنے عہدے سے استعفی دے دیا۔دوسری جانب ایئر انڈیا نے پیر کو اعلان کیا کہ ایران جنگ کے دوران بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر وہ آئندہ ہفتے بھارت، یورپ اور امریکا کے درمیان 78 اضافی پروازیں چلائے گی۔تاہم طویل متبادل راستوں کے باعث کئی پروازوں کا دورانیہ نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے۔ مثال کے طور پر دہلی سے نیویارک جانے والی ایئر انڈیا کی ایک پرواز کو پیر کے روز روم میں اسٹاپ اوور کرنا پڑا جس کے باعث سفر کا دورانیہ تقریبا 22 گھنٹے ہو گیا، جبکہ ایران جنگ سے قبل یہی پرواز عراق اور ترکی کے راستے تقریبا 17 گھنٹوں میں امریکا پہنچ جاتی تھی۔اس کے برعکس امریکن ایئرلائنز کی ایک پرواز اتوار کے روز پاکستان کی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے تقریبا 16 گھنٹوں میں یہی سفر مکمل کر گئی۔رپورٹس کے مطابق ٹاٹا گروپ اور سنگاپور ایئرلائنز کی ملکیت ایئر انڈیا پہلے ہی پاکستان کی فضائی حدود بند ہونے کے باعث سالانہ تقریبا 60 کروڑ ڈالر کے نقصان کا تخمینہ ظاہر کر چکی ہے۔طویل پروازوں کے باعث ایندھن کے اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھی ایئرلائنز کی لاگت مزید بڑھا دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں