توانائی بچت کیلئے کاروباری دورانیہ میں کمی کی جائے

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رانا زاہد توصیف نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جاری جنگ کے بعد پیدا ہونیوالی صورت حال کے تناظر میں وزیراعظم پاکستان کی توانائی بچت کے ضمن میں کئے گئے اہم فیصلوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان جیسے غریب اور ترقی پذیر ملک میںایسے اقدامات عارضی طور پر لاگو کرنے کی بجائے مستقل بنیادوں پر ضروری ہیں، لیکن دوسری جانب اس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ کیاوزیراعظم کے قوم سے خطاب کے بعد پٹرول، ڈیزل قیمت میں ریکارڈ اضافہ کے بعد پیدا ہونے والے منفی اثرات کم ہو جائیں گے بہتر تو یہ تھا کہ وزیراعظم پٹرولیم مصنوعات قیمت میں کیا جانے والا اضافہ واپس لینے کا اعلان کرتے مگر انہوں نے صورتحال کے تناظر میں قیمتیں مزید بڑھنے کا عندیہ دیا ہے رانا زاہد توصیف نے کہا کہ توانائی بچت کے حوالہ سے سرکاری افسران کو پٹرول کی مد میں کٹوتی اور دیگر اخراجات میں کمی خوش آئند فیصلہ ہے مگرعمل درآمد صرف دو ماہ تک ہی کیوں ؟پاکستان جیسا غریب ملک کسی صورت شاہانہ اخراجات ، وزرائ، مشیروں اور بیورو کریسی کو ملنے والے بے جا پروٹوکول اور بھاری مراعات کا متحمل نہیں ہو سکتا لہذا مستقل بنیادوں پر حکمت عملی اپنائی جائے حکومت کو عوام کی بڑھتی تکالیف اور مشکلات ، معاشی زبوں حالی کو مدنظر رکھتے ہوئے حقیقی معنوں میں ریلیف دینا ہو گا۔کیونکہ جاپان سمیت دنیا کے بہت سے ممالک سادگی کفایت شعاری اپنا کر ہم سے بہت آگے نکل چکے ہیں مگر پاکستان میں الٹی گنگا بہتی ہے اور حکومتی دعوں کے باوجود غریب عوام وہیں کھڑی ہے جہاں پہلے تھی آخر میںر انا زاہد توصیف نے مطالبہ کیا کہ توانائی بچت کے لئے شاپنگ مارکیٹیں، دکانوں کے کاروباری دورانیہ میں بھی کمی کی جائے اس سے ایک تو پیداوار کے لئے بجلی کی بچت ہو گی نیز کسٹمرز کی جانب سے رات گئے خریداری نہ کئے جانے سے پٹرول کاکم استعمال ہو گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں