پاکستان’ سعودی عرب اور ترکی کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدہ خوش آئند ہے، یہ معاہدہ تینوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات’ باہمی اعتماد اور مشترکہ دفاعی مفادات کی عکاسی کرتا ہے، ایسے وقت میں جب خطے کو مختلف نوعیت کے سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہے، پاکستان’ سعودی عرب اور ترکی کے دفاعی تعاون تینوں ممالک کے لیے اعتماد اور تحفظ کا باعث بنے گا، اس معاہدے سے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نئے امکانات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ نائب وزیراعظم پاکستان اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ معاہدہ مکہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔ معاہدے کا واحد مقصد علاقائی امن’ استحکام اور خوشحالی کی کوششوں کو مزید تقویت دیتا ہے۔ معاہدہ علاقے کے دیگر ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو اختلافات کو پرامن ذرائع سے حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ معاہدہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی ستونوں کے مطابق ہے۔ ”مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ” پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کی قیادت اور عوام کے برادرانہ تعلقات کا عکاس ہے جو کئی سال کی بات چیت اور ہم آہنگی کا نتیجہ ہے۔ معاہدے کی رو سے کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل51 کے تحت انفرادی اور اجتماعی دفاع کے فطری حق کے مطابق ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب’ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط گہرے تاریخی اور سٹریٹجک تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور کئی برسوں تک جاری رہنے والے تفصیلی مذاکرات کے بعد طے پایا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کی مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، دفاعی تیاری بڑھانے کے ساتھ سٹریٹجک دفاعی صلاحیتوں کو ترقی دینا اور ان کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کو درپیش کسی بھی خطرے کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔ معاہدے کا مقصد کسی فوجی اتحاد یا فرقہ وارانہ یا مسلکی بلاک کے قیام کی جانب کوئی پیش رفت نہیں ہے اور نہ ہی اس کا تعلق جوہری عزائم یا خطے میں اسلحے کی دوڑ سے ہے بلکہ اس کا مقصد پائیدار خودانحصار صلاحیتوں کی ترقی ہے۔ یہ خطے کے کسی ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے اور نہ ہی کسی دو ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ پاکستان’ سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے کو حکومتی رہنمائوں نے تاریخی’ سفارتی ودفاعی کامیابی’ مسلم امہ کے اتحاد اور خطے میں امن واستحکام کی جانب اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔ پوری پاکستانی قوم کی طرف سے بھی مکہ معاہدے کا خیرمقدم کیا گیا ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے پاکستان کو یہ اعزاز بخشا کہ وہ حرمین شریفین کا محافظ بنا۔ دفاعی معاہدہ امن اور سلامتی کی ضمانت ہے اور پاکستان کو دنیا میں وہ مقام ملا ہے جس کی خواہش تمام ممالک رکھتے ہیں۔ مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان سمیت پوری امت مسلمہ کے لیے باعث فخر ہے۔ پاکستان’ سعودی عرب اور ترکیہ خطے کے امن کے لیے متحد ہوئے ہیں اور مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کے لیے باعث فخر ہے۔ تاریخی معاہدہ ملکی قیادت کے ویژن کا عکاس ہے۔ اس سے تینوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔ مکہ دفاعی معاہدہ مسلم امہ کے اتحاد کے لیے امید کی نئی کرن ہے۔ مکہ دفاعی معاہدہ امن’ سلامتی اور استحکام کا باعث بنے گا۔ معاہدے سے امت مسلمہ کو نئی امید ملی ہے اور تاریخی معاہدے کے بعد دنیا میں پاکستان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ مکہ کی مقدس سرزمین پر تاریخی معاہدہ ہونا اعزاز کی بات ہے۔ اس سے برادر اسلامی ممالک کے درمیان امن کی نئی راہیں ہموار ہونگی۔ مکہ دفاعی معاہدہ امت مسلمہ کے اتحاد کی علامت ہے اس معاہدے سے اسلامی ممالک کی ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔ معاہدے سے اسلامی ملکوں کے درمیان بھائی چارے کو فروغ ملے گا مکہ دفاعی معاہدے مسلم امہ کے اتحاد اور خطے میں پائیدار امن کی جانب اہم پیش رفت ہے۔ یہ مسلم امہ کے لیے خوشی’ امید اور فخر کا غیر معمولی لمحہ ہے۔ پاکستان اور ترکیہ اور سعودی عرب ایک دوسرے کے ساتھ دکھ سکھ کے ساتھی ہیں اور مشکل وقت میں اسلامی ممالک نے ایک دوسرے کا ساتھ بھی دیا ہے اور یہ معاہدہ اس عزم کا اعادہ بھی کرتا ہے کہ کسی ایک ملک پر حملہ ان تینوں اسلامی برادر ملکوں پر تصور ہو گا۔ تینوں ملکوں کی عوام نے اس معاہدے کو خوش آئند بھی قرار دیا ہے۔ اس معاہدے کے ثمرات آنے والے دنوں میں نہایت خوش آئند ثابت ہونگے۔




