صفائی ستھرائی کے سلسلہ میں شعور اجاگر کرنیکی ضرورت (اداریہ)

صحت مند اور صاف ستھرا ماحول ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اس مقصد کے لیے صفائی کا مؤثر نظام ناگزیر ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے پورے پنجاب کی طرح نجی ہائوسنگ سوسائٹیز میں بھی صفائی یقینی بنانے کا حکم اس حوالے سے ایک اہم اقدام ہے۔ عموماً صفائی کے معاملات میں سرکاری علاقوں پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے جبکہ نجی اور کوآپریٹو ہائوسنگ سوسائٹیز میں انتظامیہ اپنی ذمہ داری سے بہلوتی کرتی نظر آتی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں گندگی’ کوڑا کرکٹ اور نکاسی آب کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جو نہ صرف شہریوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتے ہیں بلکہ مختلف بیماریوں کے پھیلائو کا خطرہ بھی بڑھاتے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرصدارت خصوصی جائزہ اجلاس میں ستھرا پنجاب کو صوبہ بھر میں مزید بہتری کا ہدف دے دیا۔ کمرشل ایریاز سے ویسٹ ہٹانے کیلئے اوقات کار مقرر کرنے کی ہدایت کی گئی ہے’ ستھرا پنجاب ورکرز کو ہر ماہ کی پانچ پانچ تاریخ تک ادائیگی کا بھی حکم دیا گیا، ستھرا پنجاب کمپنیوں سے ورکرز کو ادائیگی کی ماہانہ رپورٹ بھی طلب کر لی گئی’ کنڈیکٹرز کی واجب الادا رقوم کی جلد ازجلد ادائیگی کا حکم بھی دیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے علاقائی ضروریات کے مطابق ورکرز اور مکینیکل مشینری کی ضروریات پوری کرنے کا بھی حکم صادر کیا گیا۔ سکولز’ کالجز’ یونیورسٹیوں اور ہسپتالوں کے گرد ونواح میں صفائی ستھرائی یقینی بنانے کی ہدایت’ پارکس اور گرین بیلٹوں میں بھی صفائی یقینی بنانے کا حکم جاری کیا گیا۔ شہریوں کے داخلی اور خارجی راستوں کی روزانہ اور بروقت صفائی کی بھی ہدایت’ ستھرا پنجاب میں ورکرز سے افسر تک ہر سطح پر کارکردگی جانچنے کے لیے ایس او پیز تشکیل دیئے جائیں اور شہروں کی سبزی اور فروٹ منڈیوں کی صفائی پر خصوصی طور پر فوکس کیا جائے۔ ایس او پیز کی خلاف ورزی کی صورت میں کنڈیکٹرز کو جرمانہ سے قبل 24 گھنٹے میں بہتری لانے کی مہلت دی جائے۔ جرمانہ کرنا ہمارا مقصد نہیں بلکہ صفائی یقینی بنانے کیلئے کام کیا جائے۔ ستھرا پنجاب میں کام نہ کرنے والوں کے لیے زیروٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ ہائوسنگ سوسائٹیز میں صفائی کا نظام بہتر بنانے کے لیے صرف احکامات جاری کرنا کافی نہیں بلکہ ان پر مؤثر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ ہر سوسائٹی میں صفائی کے انتظامات’ کوڑا اٹھانے کے نظام’ نکاسی آب’ سڑکوں اور گلیوں کی صفائی کی باقاعدگی سے نگرانی بھی کی جائے۔ نجی ہائوسنگ سوسائٹیز انتظامیہ سے صفائی کے نام پر بھاری فیس وصول کرتی ہیں۔ اس لیے ان پر لازم ہے کہ وہ رہائشیوں کو بنیادی شہری سہولتیں فراہم کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ صفائی کے معیار کے لیے واضح ضابطہ مقرر کرے، باقاعدہ معائنہ کیا جائے اور غفلت کے مرتکب اداروں کے خلاف جرمانوں سمیت موثر کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس سے نہ صرف شہریوں کو صاف ماحول ملے گا بلکہ انتظامیہ کی جواب دہی بھی یقینی ہو گی۔ صفائی کسی ایک محکمے یا ادارے کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت’ ہائوسنگ سوسائٹیز کی انتظامیہ اور شہریوں سمیت معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت اسی وقت مؤثر ہو گی جب اس پر بلاامتیاز اور مستقل بنیادوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ صفائی کا شعور اجاگر کرے اور ہائوسنگ سوسائٹیز کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کا پابند بنائے۔ صاف ستھرا پنجاب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتا ہے اور اگر صفائی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر کے اس کی مؤثر نگرانی کی جائے تو شہریوں کو بہتر’ صحت مند اور باوقار ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں