پوشیدہ غذائی قلت: متوازن غذا کے باوجود کمی کیوں ہوتی ہے؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں غذائی قلت ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، لیکن یہ کمی اکثر نظر نہیں آتی کیونکہ لوگ عام طور پر متوازن غذا کے بارے میں آگاہ ہیں۔ اس کے باوجود، بہت سے افراد ایسی کمی کا شکار ہوتے ہیں جسے پوشیدہ غذائی قلت (HiddenHunger) کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ افراد کو تمام ضروری غذائیت تو ملتی ہے، لیکن ان میں ضروری مائیکرو نیوٹرنٹس (Micronutrients) کی کمی ہوتی ہے جیسے وٹامنز اور معدنیات، جو صحت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ 1. غذائی اجزا کی کمی کے باوجود کیلوریز کا مناسب حصولبہت سے لوگ روزانہ کی خوراک میں کیلوریز تو حاصل کرتے ہیں، مگر ان کی غذاں میں مائیکرو نیوٹرنٹس کی کمی ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، اگر کسی شخص کا روزانہ کا کھانا چاول، روٹی، اور گوشت پر مبنی ہو، تو وہ کیلوریز تو حاصل کر رہا ہوتا ہے، لیکن وٹامن اے، آئرن، زنک، یا وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہو سکتا ہے۔ یہ غذائیتیں صحت کو بہتر بنانے کے لیے اہم ہیں، اور ان کی کمی سے دیکھنے کی طاقت میں کمی، کمزوری، اور مدافعتی نظام کی کمزوری جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔2. پروسیسڈ فوڈز اور فوڈ پراسیسنگجدید دور میں پروسیسڈ فوڈز کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ ان میں غذائیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے زیادہ پیکیجنگ، پروسیسنگ اور افزودہ اجزا شامل کیے جاتے ہیں۔ چیزیں، فاسٹ فوڈز، اور سوڈا جیسے کھانے آپ کی کیلوریز کی ضرورت کو تو پورا کرتے ہیں، لیکن ان میں مائیکرو نیوٹرنٹس جیسے وٹامنز اور معدنیات کی کمی ہوتی ہے۔ اگر روزانہ ایسے کھانے کھائے جائیں تو پوشیدہ غذائی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے۔3. آنتوں کی صحت اور غذائی اجزا کا جذبہماری آنتوں کی صحت کا بھی براہ راست تعلق غذائی اجزا کے جذب سے ہے۔ اگر کسی شخص کو گٹ مائیکرو بایوم میں مسئلہ ہو، جیسے آنتوں کی سوزش یا معدے کی بیماری، تو وہ غذائی اجزا کو مناسب طریقے سے جذب نہیں کر پاتا۔ اس سے وٹامن ڈی، آئرن اور فولک ایسڈ جیسے اہم اجزا کی کمی ہو سکتی ہے، جو کہ پوشیدہ غذائی قلت کی اہم وجوہات میں سے ایک ہیں۔4. غذائی عادات اور علم کا فقدانپاکستان میں بہت سے افراد کے پاس غذائیت کے حوالے سے علم کی کمی ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ کون سی غذائیں کس بیماری سے بچاتی ہیں اور کس سے صحت کو فائدہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، گھریلو غذاں میں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں وٹامنز اور معدنیات کی کمی واقع ہو رہی ہے۔ ایک طرف جہاں گوشت اور چاول کا استعمال زیادہ ہو رہا ہے، وہیں سبز پتوں والی سبزیاں اور پھل کم کھائے جا رہے ہیں۔5. غذائی اجزا کا نقصانکچھ کھانے پکانے کی تکنیکیں، جیسے فرائی کرنا یا زیادہ درجہ حرارت پر پکانا، غذائی اجزا کو ضائع کر دیتی ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر سبزیوں کو زیادہ دیر تک پکایا جائے تو ان میں موجود وٹامن سی اور فولیٹ کم ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پانی میں ابالنے سے بھی کئی غذائی اجزا ضائع ہو جاتے ہیں۔6غذائی کمی کے اثراتپوشیدہ غذائی قلت کے اثرات فورا ظاہر نہیں ہوتے، لیکن یہ انسان کی زندگی کے معیار پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ ان کمیوں کی وجہ سے مدافعتی نظام کمزور ہو سکتا ہے، جو کہ بیماریوں سے لڑنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ مزید برآں، ہڈیوں کی کمزوری، جلد کی بیماریاں، یا تھکاوٹ جیسے مسائل بھی ابھر سکتے ہیں۔حل: بہتر غذائی عادات اور آگاہیپوشیدہ غذائی قلت کو دور کرنے کے لیے ہمیں اپنی غذائی عادات میں تبدیلی لانی ہوگی۔ خوراک میں مائیکرو نیوٹرنٹس کے توازن کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں زیادہ پھل، سبزیاں، دالیں، مچھلی، انڈے، اور دودھ شامل کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، غذائیت سے متعلق آگاہی اور صحت کے بارے میں تعلیم کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ لوگ اپنی صحت کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے کھانے کے انتخاب میں مائیکرو نیوٹرنٹس کا خیال رکھیں۔ خلاصہ : پوشیدہ غذائی قلت ایک خاموش مسئلہ ہے جو غذائی اجزا کی کمی کے باعث مختلف صحت کے مسائل پیدا کرتا ہے۔ متوازن غذا کے باوجود اگر مائیکرو نیوٹرنٹس کی کمی ہو تو یہ صحت کو متاثر کر سکتا ہے۔ ہمیں اپنی غذائی عادات میں تبدیلیاں لانی ہوں گی اور اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ ہم کس طرح اپنی روزانہ کی خوراک میں پھلوں، سبزیوں، اور دیگر غذائیت بخش اجزا کو شامل کرتے ہیں تاکہ ہم پوشیدہ غذائی قلت سے بچ سکیں اور اپنی صحت کو بہتر بنا سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں