اسلام آباد (شوبز نیوز)معروف پاکستانی ریپر علی گل پیر نے اپنے مشہور گانے وڈیرے کا بیٹا کی تیاری اور اس کے ذریعے راتوں رات شہرت حاصل کرنے کی داستان سنا تے ہوئے کہاہے کہ گانا وڈیرے کا بیٹا یہ کہہ کر ریجیکٹ کیا گیا اس میں نہ کوئی لڑکی ہے، نہ رومانس۔علی گل پیر نے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں موجود مختلف کرداروں نے مجھے اس گانے کا خیال دیا، جن میں جاگیردار خاندانوں کے وہ بیٹے بھی شامل تھے جو میرے اسکول میں پڑھتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ وہ لڑکے ایک پک اپ وین میں سفر کرتے تھے جبکہ دوسری گاڑی میں ان کے محافظ ہوتے تھے، انہیں دیکھ کر طلبہ انہیں سائیں کہہ کر پکارتے تھے۔گلوکار کے مطابق پروڈکشن ہائوس میں تقریباً 6سے 7 ماہ کام کرنے کے بعد میں نے یہ گانا لکھا اور اسے مکمل کرنے میں تقریباً 1گھنٹہ لگا، میرا مقصد جاگیردار کے بیٹے کے نقط نظر سے ایک مزاحیہ گانا پیش کرنا تھا۔ علی گل پیر نے کہا کہ میں اپنا گانا اپنے دوست کے پاس لے کر گیا، جو اب عاطف اسلم کے ڈرمر ہیں، عزیز کاظمی کے پاس پرانا پینٹیئم 4 کمپیوٹر تھا اور اسی سسٹم پر گانے کی موسیقی تیار کی گئی۔انہوںنے کہاکہ گانے کی ویڈیو بنانے کے لیے میں نے ایک ایسے دوست سے کیمرا ادھار لیا جو شادیوں کی ویڈیوز بناتا تھا، دوستوں کی مدد اور مختلف لوگوں کے تعاون سے تیار کیے گئے اس گانے کا کل بجٹ تقریباً 15ہزار روپے تھا۔گلوکار نے کہا کہ اس وقت ٹیلی ویژن پر کئی میوزک چینلز موجود تھے، میں نے اظفر علی کے ذریعے ایک چینل سے رابطہ کیا، تاہم مجھے یہ کہہ کر گانا نشر کرنے سے انکار کر دیا گیا کہ اس میں نہ کوئی لڑکی ہے، نہ رومانس اور نہ ہی محبت کی کہانی، اس لیے یہ ٹی وی پر نہیں چلے گا۔




