اسلام آباد(بیوروچیف) بین الاقوامی مالیاتی فنڈآئی ایم ا یف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ایف بی آ رکی آمدنی کے تخمینے میں کمی کی پیش گوئی کی ہے اور اندازہ لگایا ہے کہ ٹیکس مشینری سالانہ ہدف 12,970ارب کے بجائے 12,480ارب روپے اکٹھا کر سکے گی، جس سے 490ارب روپے کا ممکنہ خسارہ سامنے آ سکتا ہے۔اب وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف کی جانب سے دو آپشنز دیے جائیں گییا تو اخراجات میں متناسب کمی کی جائے تاکہ مالیاتی خسارے میں اضافے کو روکا جا سکے، یا فوری طور پر ایک منی بجٹ کے ذریعے اضافی محصولات کے اقدامات کیے جائیں۔ یہ حکومت کی صوابدید پر ہوگا کہ آئندہ ہفتے شروع ہونے والے پالیسی سطح کے مذاکرات میں کون سا فیصلہ کیا جائے۔اسی دوران، بدھ کے روز تمباکو صنعت کے نمائندوں نے آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کو بریفنگ دی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED)میں 25فیصد کمی اور ایک تیسری درجہ بندی (ٹائر) متعارف کرانے کی تجویز دی، کیونکہ انڈسٹری کے مطابق، زیادہ ٹیکس کی وجہ سے نہ صرف فروخت میں کمی آئی ہے بلکہ حکومتی ریونیو بھی کم ہو رہا ہے۔




