واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد سے گرفتار کر کے امریکا کے حوالے کیے گئے داعش کے دہشت گرد شریف اللہ کو ورجینیا کی عدالت میں پیش کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق شریف اللہ کو عدالت میں ابتدائی سماعت کے لیے پیش کیا گیا، تفصیلی سماعت پیر کو ہوگی۔گرفتار دہشت گرد شریف اللہ نے جج سے بات کیلئے مترجم کی خدمات لیں۔امریکی محکمہ انصاف کے مطابق شریف اللہ نے کابل حملے اور حملہ آور کے فرار میں مدد دینے کا اعتراف کرنے کے علاوہ مارچ 2024 میں ماسکو کے سٹی ہال میں حملے میں ملوث ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے۔امریکی عدالت میں پیشی پر داعش دہشت گرد شریف اللہ نے جج سے بات کے لیے دری زبان کے مترجم کی خدمات لیں، اٹارنی نے بتایا کہ ملزم کے پاس اثاثے نہیں، اس لیے فیڈرل پبلک ڈیفنڈر درکار ہے۔افغان شہری محمد شریف اللہ کو ورجینیا کی وفاقی عدالت میں جج ولیم پورٹر کے سامنے 5 مارچ کی دوپہر کو پیش کیا گیا، شریف اللہ کو نیلے رنگ کا جیل میں پہننے والا لباس پہنایا گیا تھا، امریکی حکام کا کہنا تھا کہ شریف اللہ ان 2ملزمان میں سے ایک ہے جو کابل حملے میں ملوث ہیں۔دس منٹ تک جاری ابتدائی سماعت کے موقع پر شریف اللہ کو بتایا گیا کہ الزامات ثابت ہوئے تو اسے عمر قید کا سامنا ہوگا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2021میں امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے دوران کابل ایئرپورٹ پر بم دھماکے میں 13امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے ذمے دار داعش کے دہشت گرد محمد شریف اللہ کی گرفتاری میں کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا تھا۔امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے پہلے خطاب میں 2021میں کابل ایئرپورٹ کے ایبے گیٹ بم دھماکے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم نے اس ظلم کے ذمہ دار سرفہرست دہشت گرد کو گرفتار کر لیا اور وہ امریکی انصاف کی تیز تلوار کا سامنا کرنے کے لیے یہاں آرہا ہے۔




