ٹک ٹاک کا مالک چین کا امیر ترین شخص بن گیا

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) بائٹ ڈانس کے شریک بانی ژانگ یمنگ چین کے امیر ترین شخص بن گئے ہیں، جن کی مجموعی دولت 65.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ٹک ٹاک اور ٹاتیا کی ملکیت رکھنے والی بائٹ ڈانس کی مجموعی مالیت تقریبا 300ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے، جس نے ژانگ کو دنیا کے بااثر ترین ارب پتیوں میں شامل کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق 2012میں ژانگ یمنگ نے بائٹ ڈانس کی بنیاد رکھی، جو آج دنیا کی سب سے قیمتی نجی ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک بن چکی ہے۔ اگرچہ وہ مئی 2021میں بطور سی ای او مستعفی ہو گئے تھے، لیکن وہ اب بھی کمپنی میں 21فیصد حصے کے مالک ہیں اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے میدان میں اس کے اسٹریٹجک فیصلوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق بائٹ ڈانس اس وقت دنیا کا دوسرا سب سے قیمتی سٹارٹ اپ ہے جو صرف ایلون مسک کی سپیس ایکس سے پیچھے ہے۔ژانگ کی کاروباری کامیابی ایک سادہ پس منظر سے شروع ہوئی۔ وہ چین کے صوبہ فوجیان میں پیدا ہوئے اور نانکائی یونیورسٹی سے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے مختلف ٹیک کمپنیوں میں کام کیا اور 2012 میں 29 سال کی عمر میں، بیجنگ کے ایک چار کمروں کے اپارٹمنٹ سے بائٹ ڈانس کی بنیاد رکھی۔ ان کا مقصد مشین لرننگ اور بڑے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کے لیے ذاتی نوعیت کا مواد تیار کرنا تھا، جو بالآخر ٹک ٹاک کو عالمی سطح پر ایک ارب سے زائد صارفین تک لے گیا۔اپنے استعفے کے بعد، ژانگ نے ملازمین کو ایک ای میل میں لکھا کہ وہ روایتی منیجر کی خصوصیات نہیں رکھتے، لیکن انہیں کمپنی کے مستقبل پر پورا اعتماد ہے۔ ان کا مصنوعی ذہانت پر بڑھتا ہوا زور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بائٹ ڈانس اب اگلی نسل کی ٹیکنالوجیز، بشمول آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس (اے جی آئی) کی ترقی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ژانگ یمنگ کا چین کے امیر ترین افراد میں شامل ہونا بائٹ ڈانس کے عالمی اثر و رسوخ اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں