مہنگے ایندھن کا بجلی صارفین پر بوجھ

اسلام آباد (بیوروچیف) مہنگے ایندھن کے استعمال سے بجلی کے صارفین کی گذشتہ فروری میں ایک ارب 89کروڑ روپے کے اضافی بوجھ کا سامنا کر نا پڑا جس کی وجہ بجلی پیداوار میں میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی ہے ۔ جبکہ نیپرانے بجلی کے استعمال میں مسلسل کمی کا اشارہ دیا ہے۔ پاورڈویژن کو اس معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ نیپرا نے موسم گرما سے قبل بجلی کی لاگت پر کنٹرول کے لیے فوری اقدامات کی بھی ہدایت کی ہے۔ گزشتہ روز یہاں فروری کیلیے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ درخواست عام سماعت پرسینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے ) نے سرکاری بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے صارفین کیلئے 0.298روپے فی یونٹ ری فنڈکی تجویز دی یہ مسلسل آٹھواں مہینہ ہے جب ایجنسی نے بجلی کے صارفین کیلئے ری فنڈ تجویز کیاہے۔ اگر یہ درخواست منظور ہوگئی تو مجوزہ ایڈجسمنٹ ڈسکوز کے تمام صارفین پر لاگو ہوگی۔ اس سے لائف لائن اور پروٹیکٹیڈ صارفین مستثنا ہونگے۔ الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشن بھی اس میں شامل نہیں نیپرا کے ٹیکنیکل رفیق شیخ نے الیکٹرسٹی ڈیمانڈ گروتھ پر وجیکشن پرسی پی پی اے سے سوال اٹھایا اور دوران سماعت ڈسکوزگی غیر حاضری پرتنقید کی۔ چیئرمین نیپرا نے بجلی کے استعمال میں مسلسل کمی وجوہ کا جائزہ لینے اورحکام کو ہائیڈرو پاور جنریشن پلان تیار کرنے کا حکم دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں