فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے فیصل آباد ڈویژن کا دورہ کیا اور محرم الحرام کے سلسلے میں کئے گئے انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کیلئے حکومت پنجاب نے ہر ممکن اقدامات کئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عاشورہ کے دوران ممکنہ بارشوں کے پیش نظر تمام اضلاع کی انتظامیہ، لوکل گورنمنٹس اور واسا کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔عظمی بخاری نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی اور عالمی صورتحال کے تناظر میں محرم الحرام کا موجودہ سال غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کچھ شرپسند عناصر افواہیں اور من گھڑت خبریں پھیلا کر حالات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن حکومت کسی کو امن و امان میں خلل ڈالنے کی اجازت نہیں دے گی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبہ بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات سمیت تمام سہولیات مفت فراہم کی جا رہی ہیں۔پاکپتن میں بچوں کی اموات پر کارروائی کرتے ہوئے 12نجی ہسپتال سیل کئے گئے ہیں، جن میں سے بعض میں زچگی گھروں میں ہوئی اور مریض تشویشناک حالت میں لائے گئے۔سرگودھا میں کارڈیالوجی کے بعد دسمبر تک کینسر کا سب سے بڑا ہسپتال بھی فعال ہوجائے گا۔فیصل آباد میں میٹرو سمیت متعدد میگا پروجیکٹس رواں سال شروع ہو رہے ہیں۔پنجاب کے 140شہروں میں سیوریج کا نیا نظام ورلڈ بینک کی معاونت سے قائم کیا جائے گا اور فیصل آباد کے صحافیوں کے لئے کالونی سے متعلق جلد خوشخبری سننے کو ملے گی۔عظمی بخاری نے کہا کہ ”مریم نواز حکومت کے حوالے سے کوئی آڈٹ رپورٹ اب تک جاری نہیں ہوئی اور ایک ناکام ٹولہ صرف طوفانِ بدتمیزی برپا کئے ہوئے ہے۔ جو لوگ خود کرپشن میں سر سے پاں تک لتھڑے ہوئے ہیں، وہ ہم سے سوال کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ”پی ٹی آئی دور میں خیبرپختونخوا میں 270 ارب روپے کی مبینہ کرپشن اور جعلی رسیدوں کا انکشاف ہو چکا ہے جبکہ ان کامہا تماآج توشہ خانہ کیس میں اپنی بیگم سمیت جیل میں ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ ”صحت کارڈ پروگرام نواز شریف کا ویژن تھا جسے پی ٹی آئی نے چوری کر کے اپنے نام سے پیش کیا۔ مریم نواز نے اقتدار میں آ کر پانچ سال کی 22 ارب روپے کی بقایا جات کی ادائیگی کی۔ ”صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ”بدتمیزی اور بہتان تراشی کا جواب ہم کارکردگی سے دیں گے۔ جو لاشوں پر سیاست کرتے ہیں، ان کے لئے مخصوص نشستوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہم غلطی کریں گے تو تسلیم کریں گے، وہ تو اکڑتے ہیں۔”




