برطانیہ میں قیامت خیز گرمی،600افراد ہلاک

لندن (مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق موجودہ گرمی کی لہر کی وجہ سے ویلز اور انگلینڈ میں تقریبا 6سو افراد ہلاک ہوگئے ہیں، ہلاک ہونے الوں کی عمریں 60سال سے زائد ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔برطانیہ میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث 2020سے لیکر جون 2025تک 10ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں، رواں سال سب سے زیادہ گرمی لندن اور ویسٹ مڈلینڈ میں پڑی۔محکمہ موسمیات کی طرف سے گرمی کی دوسری لہر کے بعد مزید گرمی پڑنے کی پیش گوئی کی گئی ہے، موجودہ گرمی کی لہر کے باعث برطانوی شہریوں نے دریا اور سمندر کے کناروں کا رخ کیا۔برطانیہ کے مختلف شہروں میں درجہ حرارت 34 سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ سال 2020میں درجہ حرارت 40سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تھا جس کی وجہ سے 3271 افراد ہلاک ہوئے تھے۔برطانوی حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ برطانیہ شدید موسمی تبدیلی کے زیر اثر ہے اور گرمی کی شدت برقرار رہی تو ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خطرہ ہے۔دوسری جانب یورپ میں سب سے زیادہ گرمی پیرس میں 40 سینٹی گریڈ ریکارڈ کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں