بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) نائب وزیر اعظم، وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی چین کے صدر شی جن پنگ سے مشترکہ ملاقات میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ چینی صدر نے وفود کے سربراہان کا خیرمقدم کرتے ہوئے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت علاقائی تعاون کی اہمیت کو اجاگر کیا، جو یوریشیائی خطے اور دنیا کی بڑی آبادی پر محیط ایک تنظیم ہے۔قبل ازیں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحق ڈار شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او )کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کے لیے چین کے دارالحکومت بیجنگ پہنچے۔بیجنگ ایئرپورٹ پر ان کا استقبال عوامی جمہوریہ چین کی وزارت خارجہ کی ایشیائی امور کے شعبے سے سفیر مس یو ہونگ، چین میں پاکستان کے سفیر خلیل الرحمن ہاشمی اور چینی وزارت خارجہ کے اعلی حکام نے کیا۔اپنے سرکاری دورہ چین کے دوران نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحق ڈار تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او ) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں پاکستانی وفد کی قیادت کریں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ چین میں ایس سی او کے وزرائے دفاع کا اجلاس ہوا تھا، جس میں علاقائی و عالمی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی میں تعاون، اور رکن ممالک کے درمیان عسکری ہم آہنگی پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)2001 میں قائم کی گئی تھی، اور اس کے رکن ممالک میں چین، روس، بھارت، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغزستان، ازبکستان، تاجکستان اور بیلاروس شامل ہیں۔تنظیم کا علاقائی انسدادِ دہشت گردی ڈھانچہ (آر اے ٹی ایس) سیکیورٹی کے شعبے میں ایک مرکزی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔چین کی صدارت کے دوران اس سال کا تھیم شنگھائی روح کی پاسداری: SCO حرکت میں ہے۔نائب وزیراعظم محمد اسحق ڈار کو اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ٹیلیفون کیا، پاکستان کے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے نائب وزیراعظم نے عالمی امن و سلامتی اور تنازعات کے پر امن حل کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔محمد اسحق ڈار نے اِن مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستان کی جانب سے اپنے دور صدارت میں منعقد کیے جانے والے دستخطی پروگراموں پر بھی روشنی ڈالی، دونوں رہنماں نے آئندہ ہفتے نیویارک میں سلامتی کونسل کی صدارت سے متعلق سرگرمیوں کے دوران ملاقات اور تعاون پر اتفاق کیا۔نائب وزیراعظم نے اقوام متحدہ اور اس کے عملے کو اِن کے مینڈیٹ کی موثر ادائیگی میں سہولت فراہم کرنے میں پاکستان کی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا۔




