ملکی استحکام کیلئے سیاسی بحرانوں کا خاتمہ قومی ترجیح اول بنایا جائے

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر لیاقت بلوچ نے غلام محمد آبا د میںزون پی پی118کے زیراہتمام ورکرز کنو نشن سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ ملکی استحکام کے لیے سیاسی بحرانوں کا خاتمہ قومی ترجیحِ اول بنایا جائے، تمام شعبہ ہائے زندگی، تمام اسٹیک ہولڈرز آئین کی بالادستی اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے آزاد عدلیہ کی اہمیت کو تسلیم کریں اور خود کو آئین و قانون کا پابند بنائیں۔ عوام کے جان مال عزت کے تحفظ کے لیے ازسرِنو قومی اتفاقِ رائے کا قومی ایکشن پلان بنایا جائے۔ آئین کے مطابق عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔کنونشن سے صوبائی امیر جاویدقصوری، ضلعی امیرمحبوب الزماں بٹ، زونل امیرڈاکٹرسلیم سرور،سیکرٹری زیشان شیخ،ملک معراج الدین و دیگرنے بھی خطاب کیا۔لیاقت بلوچ نے کہاکہ سیاسی بحران اقتصادی میدان کے لیے موت کا پروانہ ہے۔اقتدار کے حصول کے لیے تمام جمہوری، انتخابی، پارلیمانی اقدار کو پامال کرکے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کمپرومائز کرنے والے اسٹیبلشمنٹ ہی کے ہاتھوں نشانِ عبرت بنادیے جاتے ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان ملک و مِلّتِ کو ہوتا ہے۔عوام کو مافیاز کے شکنجے سے آزاد کرانے کے لیے گُڈگورننس، آئین و قانون کی فرمانروائی اور اُصول، ضابطہ و میرٹ پر ریاست کا نظام چلانا ناگزیر ہے۔عوامی مینڈیٹ چُراکر قومی وحدت و یکجہتی بحال نہیں ہوسکتی،حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کا قومی فرض ہے کہ عوام کے جذبوں، امنگوں کے مطابق قومی ترقی اور استحکام کے لیے درست سمت اختیار کریں۔انہوںنے ے سیلاب کی نتیجہ میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ سیلاب کی تباہ کاریاں حکمرانوںکی نااہلیوں اور غفلت کا نتیجہ ہیں،سابق حکمرانوں نے ذاتی مفادات کیلئے رہائشی سوسائٹیوں کے ناجائز اجازت نامے جاری کیے اور موجودہ حکمرانوں نے انھیں منسوخ نہ کرکے ثابت کیا کہ ان سب کو ایک دوسرے کے مفادات عزیزہیں،عوام سے انہیں کوئی سروکارنہیں، یہ قومی مجرم ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن ملک و ملت کے وسیع تر مفاد کی خاطر فوری طور پر اپنی سیاسی و احتجاجی سرگرمیاں منسوخ کر کے اپنے تما م تر وسائل کو سیلاب زدگان کی بحالی پر صرف کریں۔اس نازک وقت میں سیاست کرنے کی بجائے پانی میں پھنسے ہوئے غریب عوام کی زندگیاں بچانے اور انہیں دوبارہ زندگی کی طرف بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں آپس میں بیان بازی میں مصروف ہیں،کسی کو بھی متاثرین کے ساتھ ہمدردی کے دو بول بولنے کی بھی توفیق نہیں ہو سکی۔ ہزاروں لوگ چھتوں پر بھوکے پیاسے پانی اترنے اور امداد کے منتظر ہیں ۔ قدرتی آفات میں عوام کو ریسکیو کرنا حکومتی ذمہ داری ہوتی ہے مگر حکومتیں اپنی ذمہ داریاں اداکرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ آج ملک بھرمیں جماعت اسلامی ،الخدمت کے کارکن رضاکارانہ طور پر امدادی سرگرمیوںمیںمصروف ہیں۔انہوںنے کہاکہ باختیار بلدیاتی نظام ہی گلی محلوں،دیہات اور شہروں میں مسائل کے حل کا محفوظ، کارآمد، پائیدار نظام ہے ۔ جماعت اسلامی کی عوامی کمیٹیاں عوام کے مسائل کروانے میںموثرکرداراداکریں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں