زہریلی گیس سے3محنت کشوں کی ہلاکت،پاسبان گروپ کے مالک شاہنواز،منشی لیاقت کیخلاف مقدمہ درج

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ستیانہ روڈ پر مچھلی فارم کے قریب سیوریج کا غیر قانونی کنکشن کرتے ہوئے زہریلی گیس کے باعث دم گھٹنے سے تین محنت کش کی ہلاکت پر پاسبان گروپ کے مالک شاہ نواز’ منشی لیاقت علی سمیت پاسبان گروپ کے ذمہ داروں کے خلاف زیردفعہ 322 ت پ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا۔ تفصیل کے مطابق 239 رب خانوآنہ کے رہائشی ندیم عباس نے پولیس کو بتایا کہ اس کا حقیقی بھائی ذوالفقار ولد جہاں خان’ اس کے دوست نعیم عباس ولد خوشی محمد اور محمد عنصر ولد محمد علی کے پاس پاسبان کالج کا منشی لیاقت علی آیا جو کہ کالج کے ساتھ بھینسوں کے فارم پر بھی منشی ہے، اس نے بھائی ذوالفقار وغیرہ سے سیوریج کے کنکشن کرنے کیلئے ایک لاکھ روپے معاملہ طے کیا جس پر تینوں نے کام شروع کر دیا جب تینوں کو پتہ چلا کہ منشی لیاقت علی اور پاسبان کالج مالکان نے محکمہ سے کام کی اجازت نہ لی ہے اور تینوں نے ابھی تک صرف 15ہزار وصول کئے تھے اور انہوں نے کہا کہ محکمہ سے اجازت لے کر پھر ہم کام شروع کرینگے تو پاسبان کے منشی نے سامان اپنے پاس رکھ لیا اور منشی لیاقت علی نے گٹر کے اندر سیڑھی لگوائی اور زبردستی نیچے جا کر کام کرنے کو کہا، جس پر ذوالفقار’ عنصر علی اور نعیم عباس نے کہا کہ گٹر کا ڈھکن اتار دو اس میں زہریلی گیس ہوتی ہے، جس پر منشی طیش میں آ گیا، کہنے لگا کہ مالکان نے آج ہی کام مکمل کرنے کا کہا ہے اور زبردستی کی گٹر میں اتار دیا اور منشی پاسبان کالج کے مالکان کے ساتھ رابطے میں تھا اور مالکان کے کہنے پر ایس او پی اور محکمہ کی اجازت کے بغیر گٹر میں اترتے ہی تینوں زہریلی گیس کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے تو اس پر موجود گواہ ثمر عباس’ عرفان نے ذوالفقار کے فون سے مقامی پولیس اور ریسکیو1122 کو کال کیں تو ریسکیو ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر تینوں کو گٹر سے نکالا تو تینوں فوت ہو چکے تھے، جس پر پولیس نے نعش تحویل میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر کے پاسبان کالج کے مالک شاہ نواز’ منشی لیاقت علی سمیت پاسبان گروپ کے ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کر لیا جبکہ محکمہ واسا کے ترجمان نے تینوں مزدوروں کی ہلاکت پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ واسا فیصل آباد کا مزدوروں کی ہلاکت کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق نجی فارم کے مالکان نے غیر قانونی کنکشن کیلئے واسا سے کوئی اجازت نہیں لی اور مذکورہ مزدوروں کو پرائیویٹ طور پر غیر قانونی کنکشن کرنے کیلئے بلایا گیا تھا۔ترجمان کے مطابق مزدور غیر قانونی کنکشن کرنے کیلئے رات کے اندھیرے میں کام کررہے تھے اور بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے روڈ کے نیچے سرنگ کھود کر کنکشن کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ ترجمان کے مطابق واسا فیصل آباد نے واقعہ بارے اپنی رپورٹ مجاز اتھارٹی کو پیش کر دی ہے اور مجاز اتھارٹی کی ہدایت پر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ ترجمان کے مطابق متوفی مزدوروں کے ورثا کی مدعیت میں درج کئے گئے مقدمہ میں بھی ان کا یہی موقف تھا کہ فارم مالکان نے محکمہ سے کوئی اجازت نامہ حاصل نہیں کیا اور وہ زبردستی ان سے کام لے رہے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں