سموگ پہلے کے مقابلے شدید ہونے کا خدشہ

اسلام آباد (بیوروچیف) ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے رواں برس سموگ سیزن کا پہلے کے مقابلے میں شدید ہونے کا خدشہ ظاہر کر دیا، انہوں نے کہا ہمیں ایک سائلنٹ ڈیزاسٹر کے لیے تیار رہنا چاہیے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماہر ماحولیات ڈاکٹر زینب نعیم نے کہا اگر حکومت نے موسمیاتی تبدیلی کو کچھ برس قبل سنجیدہ لیا ہوتا تو آج ہم اتنے مسائل سے دو چار نہ ہوتے، اسموگ کا سیزن شروع ہونے والا ہے جبکہ کئی علاقوں میں ابھی تک سیلاب کا پانی بھی نہیں نکالا جا سکا۔انہوں نے کہا کہ رواں برس اسموگ سیزن پہلے سے شدید ہوگا، جس میں پاکستان کے صوبہ پنجاب کا سب سے زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ڈاکٹر زینب نعیم نے بتایا کہ بھارت اور پاکستان کے پنجاب کو ایئر شیڈ کہا جاتا ہے، یہ وہ علاقے ہیں جہاں اسموگ کا خطرہ زیادہ رہتا ہے۔ماہر ماحولیات کے مطابق اسموگ کسی حد تک قدرتی طور پر ہے لیکن اس کے پھیلا کی بڑی وجہ ہمارے اپنے اقدامات ہیں، جن میں انڈسٹریز اور پرانی گاڑیوں کا دھواں، کنسٹرکشن کا بے تہاشا کام اور فصلیں جلانا۔ڈاکٹر زینب نعیم کا کہنا تھا کہ حکومت نے اس حوالے سے اقدامات تو اٹھائے ہیں، تاہم اندازہ نہیں تھا سیلاب اتنی زیادہ تباہی پھیلا دے گا، ہماری تیاری ناکافی ہے، سیلاب کا پانی میدانی علاقوں سے آہستہ ہستہ کم ہوتا ہے، نمی زیادہ ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں اسموگ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملک بھارت سے ہوا کی آلودگی، پاکستان کے صوبہ پنجاب میں داخل ہوتی ہے، یہ پاکستان میں فضائی آلودگی کا ایک بڑا فیکٹر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں